Politics
سکاٹ بیسنٹ کی ایران مخالف پالیسیوں پر وضاحتیں ناکام
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کے اعلان کو تاریخی 'ڈی ڈے' سے تشبیہ دینے پر شدید دباؤ میں ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نام نہاد معاشی ڈی ڈے حقیقت کے برعکس محض ایک کھوکھلی دھمکی ہے۔
امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو اس وقت شدید شرمندگی اور مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب وہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی معاشی پابندیوں کو 'معاشی ڈی ڈے' قرار دینے کے متنازع بیان کا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔ پیر کی سہ پہر ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے بیسنٹ سے براہ راست سوالات کیے کہ آیا تہران کے خلاف ان اقدامات کا موازنہ دوسری جنگ عظیم کے تاریخی 'ڈی ڈے' آپریشن سے کرنا کسی بھی صورت میں مناسب ہے یا نہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ پالیسی حقیقت سے کوسوں دور ہے اور اس کا مقصد محض عوامی سطح پر سخت گیر موقف ظاہر کرنا ہے۔
بیسنٹ کی جانب سے ان الزامات کا سامنا کرتے ہوئے یہ دیکھا گیا کہ وہ انتظامیہ کی حکمت عملی کو واضح کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔ انہوں نے یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی کہ یہ پابندیاں ایران کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کریں گی، تاہم وہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس دلائل دینے میں ناکام رہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا 'معاشی ڈی ڈے' کا اصطلاح استعمال کرنا ایک سیاسی حربہ ہے جس کا مقصد ووٹرز کو متوجہ کرنا ہے، جبکہ عملی طور پر یہ پابندیاں پہلے سے موجود پابندیوں کا ہی تسلسل معلوم ہوتی ہیں جو تہران کے رویے میں کوئی بڑی تبدیلی لانے سے قاصر رہی ہیں۔
اس صورتحال نے وائٹ ہاؤس کے اندر کی بے چینی کو بھی عیاں کر دیا ہے۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی بلند بانگ دعوے اور تاریخی واقعات سے غلط تشبیہات دینے سے بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ سکاٹ بیسنٹ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ وہ ایک ایسے بیانیے کا دفاع کر رہے ہیں جس کے پیچھے کوئی ٹھوس اقتصادی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ تہران نے بھی ان دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ناکام سیاسی ڈرامہ قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ اب امریکی کانگریس اور میڈیا میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے کہ آیا انتظامیہ کے پاس ایران کے حوالے سے کوئی حقیقی پالیسی موجود ہے یا صرف خالی خولی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔