LIVE
Loading Breaking News...

امریکا کا ایران کے خلاف 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' شروع کرنے کا اعلان

News Image
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو عالمی معیشت سے کاٹنے کے لیے ایک نئی جارحانہ معاشی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن نے ان تمام ممالک اور کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے جو تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھیں گے انہیں سخت امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کے روز ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران ایران کے خلاف ایک نئی اور سخت ترین معاشی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ اس حکمت عملی کو 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' کا نام دیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد ایران کو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی تجارت سے مکمل طور پر الگ تھلگ کرنا ہے۔ بیسنٹ نے واضح طور پر کہا کہ امریکا اب ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے اپنی تمام تر معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا تاکہ تہران کے لیے بیرونی دنیا سے کاروباری روابط رکھنا ناممکن ہو جائے۔ اس اقدام کو ایران کے خلاف امریکا کا سب سے بڑا معاشی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنی تقریر میں دنیا بھر کے ممالک، بین الاقوامی بینکوں اور تجارتی کمپنیوں کو دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مالی یا تجارتی معاہدے کیے تو انہیں شدید امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس معاملے میں کسی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ہے اور 'سیکنڈری سیکشنز' کے ذریعے ان تمام اداروں کو نشانہ بنایا جائے گا جو تہران کے لیے لائف لائن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے اس بیان سے عالمی منڈیوں میں ایک نئی ہلچل مچ گئی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے کئی ممالک اب اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ حکمت عملی نہ صرف ایران کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے ہے بلکہ یہ ان ممالک کے لیے بھی ایک پیغام ہے جو تہران کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کا ماننا ہے کہ ایران کو عالمی نظام سے کاٹ کر ہی اس کی جوہری اور علاقائی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ اس آپریشن کے تحت امریکی انٹیلیجنس اور مالیاتی ادارے ان تمام ذرائع کی نگرانی کریں گے جن کے ذریعے ایران اپنی مصنوعات برآمد کر رہا ہے یا عالمی مالیاتی لین دین کر رہا ہے۔ بیسنٹ کی جانب سے جاری کردہ یہ اعلان واضح کرتا ہے کہ امریکا آنے والے دنوں میں اپنی خارجہ پالیسی کے معاشی پہلو کو مزید سخت کرنے جا رہا ہے۔ اگرچہ تہران کی جانب سے ابھی تک اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ اس سے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک امریکی دباؤ کے سامنے کس طرح کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور آیا اس 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' کا اثر ایران کی داخلی معاشی صورتحال پر کتنا گہرا ہوتا ہے۔