LIVE
Loading Breaking News...

انسٹنکٹ اے آئی اسسٹنٹ: ٹیکنالوجی کی دنیا میں سکیورٹی اور پرائیویسی کے نئے سوالات

News Image
نئی ٹیکنالوجی 'انسٹنکٹ' نامی اے آئی اسسٹنٹ اپنی غیر معمولی کارکردگی کی وجہ سے خبروں میں ہے لیکن ماہرین اس کے سکیورٹی اور ڈیٹا کی پرائیویسی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ فی الحال یہ اسسٹنٹ نجی رسائی (پرائیویٹ ایکسیس) کے مرحلے میں ہے اور اس کی وسیع رسائی صارفین کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
حال ہی میں متعارف کرایا گیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا نیا اسسٹنٹ 'انسٹنکٹ' اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں لائی گئی جدید اختراعات کی وجہ سے شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اگرچہ یہ اسسٹنٹ ابھی نجی رسائی (پرائیویٹ ایکسیس) کے مراحل سے گزر رہا ہے، لیکن اس کی کارکردگی اور ڈیٹا کو ہینڈل کرنے کے طریقہ کار نے ماہرین اور صارفین دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ بہت سے تجزیہ کار اسے مستقبل کے بہترین ذاتی اسسٹنٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، مگر اس کے ساتھ جڑے ہوئے ممکنہ خطرات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ انسٹنکٹ کے بارے میں سب سے بڑی تشویش اس کی پرائیویسی اور ڈیٹا سکیورٹی پالیسیوں سے متعلق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسسٹنٹ جس طرح سے ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کرتا ہے، وہ ایک عام صارف کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتا ہے۔ چونکہ یہ ایک 'ایجنٹ' کی طرح کام کرتا ہے، اس لیے اسے صارفین کی ای میلز، کیلنڈرز اور روزمرہ کی دیگر حساس سرگرمیوں تک مکمل رسائی حاصل ہوتی ہے۔ پرائیویسی کے حامیوں کا خیال ہے کہ اتنی زیادہ معلومات کا اے آئی کے پاس ہونا کسی بھی وقت ڈیٹا لیک ہونے کا باعث بن سکتا ہے، جس کا فائدہ ہیکرز اٹھا سکتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر، ٹیکنالوجی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کمپنیوں کو اپنی پروڈکٹس کو عام کرنے سے پہلے سکیورٹی کے سخت ترین معیارات پر عمل کرنا چاہیے۔ اگر انسٹنکٹ جیسے ٹولز عوام کے لیے وسیع پیمانے پر دستیاب کر دیے گئے اور ان کے حفاظتی اقدامات کمزور رہے، تو یہ صارفین کے لیے ذاتی زندگی کی آزادی کا ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ فی الحال، انسٹنکٹ کی ٹیم کی جانب سے ان خدشات پر وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ صارفین بھی اس بات پر فکر مند ہیں کہ ان کی ڈیجیٹل زندگی کتنی محفوظ رہے گی۔ آخر میں، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دنیا میں سکیورٹی اور پرائیویسی کو ترجیح دینا وقت کا تقاضا ہے۔ انسٹنکٹ جیسی ایپس اگرچہ سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہیں، مگر اس سہولت کی قیمت صارفین کی ذاتی معلومات کی حفاظت نہیں ہونی چاہیے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا انسٹنکٹ اپنی ٹیکنالوجی میں ایسی تبدیلیاں لاتا ہے جو سکیورٹی کے خدشات کو ختم کر سکیں یا یہ اے آئی اسسٹنٹ صرف ایک متنازعہ تجربہ بن کر رہ جائے گا۔