LIVE
Loading Breaking News...

سولر کار ٹیکنالوجی کا مستقبل: چین کا نیا اقدام

News Image
چین کی معروف کمپنی فویاؤ گلاس نے گاڑیوں کی چھت سے بجلی پیدا کرنے والا نیا گلاس متعارف کرایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی فی الحال مکمل سولر کاروں کا متبادل ثابت ہونے کے بجائے صرف ایک اضافی سہولت ہے۔
دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے درمیان چین کی معروف آٹوموٹیو گلاس بنانے والی کمپنی 'فویاؤ گلاس' نے ایک ایسی پروڈکٹ متعارف کرائی ہے جو گاڑیوں کی چھت سے شمسی توانائی پیدا کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے تحت گاڑی کے اوپر نصب شیشے کے پینلز سورج کی روشنی کو براہ راست بجلی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ خبر بظاہر بہت پرکشش لگتی ہے اور اسے ماحول دوست نقل و حمل کی سمت ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حقیقت میں یہ اتنی سادہ نہیں جتنا کہ اسے پیش کیا جا رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑی کی چھت پر نصب ان سولر پینلز سے حاصل ہونے والی بجلی اتنی کافی نہیں ہوتی کہ وہ گاڑی کو طویل فاصلے تک چلانے کے لیے مکمل طور پر خود مختار بنا سکے۔ عام طور پر، گاڑی کی چھت کا رقبہ محدود ہوتا ہے جس کی وجہ سے شمسی توانائی جذب کرنے کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی فی الحال زیادہ سے زیادہ گاڑی کے اندر موجود چھوٹے برقی آلات جیسے اے سی، انفورٹینمنٹ سسٹم یا موبائل چارجنگ کے لیے بجلی فراہم کر سکتی ہے، لیکن بیٹری کو مکمل چارج کرنا فی الوقت ایک بڑا تکنیکی چیلنج ہے۔ مزید برآں، سولر گاڑیوں کی کارکردگی میں موسمی حالات کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ ابر آلود موسم، گاڑی کا پارکنگ میں سایہ دار جگہ پر کھڑا ہونا یا دھول مٹی کا جم جانا ان پینلز کی افادیت کو مزید کم کر دیتا ہے۔ فویاؤ گلاس کی جانب سے پیش کردہ یہ ٹیکنالوجی یقیناً آٹوموبائل انڈسٹری میں جدت کی ایک مثال ہے، لیکن صارفین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم ابھی مکمل 'سولر پاورڈ' کاروں کے دور سے کافی دور ہیں۔ اس طرح کی ایجادات فی الحال صرف گاڑی کی مجموعی توانائی بچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں نہ کہ اسے ایندھن یا روایتی چارجنگ سے مکمل بے نیاز کر سکتی ہیں۔ مستقبل میں اگر سولر سیلز کی کارکردگی اور ان کی قیمت میں نمایاں تبدیلی آتی ہے، تب ہی اس طرح کی ٹیکنالوجی کو ایک حقیقی معنوں میں انقلاب سمجھا جا سکے گا۔ تب تک، یہ سہولت صرف پریمیم گاڑیوں کے مالکان کے لیے ایک اضافی فیچر کے طور پر دیکھی جائے گی۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے بلند و بالا دعووں کے بجائے اس کی عملی حدود کو مدنظر رکھیں۔