LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا چین پر ٹیرف میں ہیرا پھیری کا الزام، درجنوں ممالک ملوث قرار

News Image
امریکی حکام نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ٹیرف سے بچنے کے لیے چالیس سے زائد ممالک کے نیٹ ورک کا استعمال کر رہا ہے۔ ان ممالک میں آذربائیجان، جارجیا، قازقستان اور ازبکستان سمیت کئی دیگر ریاستیں شامل ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حال ہی میں ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے چین پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ واشنگٹن کا موقف ہے کہ بیجنگ نے امریکہ کی جانب سے عائد کردہ تجارتی ٹیرف سے بچنے کے لیے چالیس سے زائد ممالک کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔ ان ممالک کے ذریعے چینی مصنوعات کو براہ راست امریکہ بھیجنے کے بجائے پہلے دیگر ممالک میں بھیجا جاتا ہے تاکہ ان پر چینی لیبل تبدیل کرکے یا انہیں دوبارہ پیک کرکے امریکی بازاروں میں داخل کیا جا سکے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد چینی برآمدات کی لاگت کو کم رکھنا اور امریکہ کی تجارتی پابندیوں کو غیر مؤثر بنانا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ اس فہرست میں وسطی ایشیا اور قفقاز کے کئی اہم ممالک کے نام شامل کیے گئے ہیں، جن میں آذربائیجان، جارجیا، قازقستان اور ازبکستان سرفہرست ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس اور تجارتی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ چین ان ممالک کی جغرافیائی حیثیت اور ان کے ساتھ موجود تجارتی معاہدوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مصنوعات کو 'میڈ اِن چائنا' کے لیبل سے ہٹا کر 'ری ایکسپورٹ' کر رہا ہے۔ یہ اقدام امریکی مینوفیکچررز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے کیونکہ سستی چینی مصنوعات کی اس طرح آمد سے امریکی مارکیٹ میں مقامی صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال کے بعد بین الاقوامی سطح پر تجارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکہ نے ان ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو چینی تجارتی ہیرا پھیری کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ جو ممالک چین کی اس پالیسی میں سہولت کار بنیں گے، انہیں بھی سخت تجارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ الزام چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی سرد جنگ کا ایک نیا اور پیچیدہ رخ ہے، جس سے نہ صرف ان دو بڑی طاقتوں کے تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ وسطی ایشیائی ممالک کے لیے بھی ایک سفارتی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ چین نے تاحال ان الزامات پر براہ راست ردعمل دینے کے بجائے اسے امریکہ کی جانب سے من گھڑت الزامات اور تجارتی بالادستی قائم کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ عالمی تجارتی قوانین کے مطابق کام کر رہا ہے اور امریکہ کا یہ اقدام صرف اپنی معاشی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کے مترادف ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے پلیٹ فارم پر بھی اٹھائے جانے کا امکان ہے، جس سے عالمی تجارت کے قواعد و ضوابط پر ایک نئی بحث چھڑ جائے گی۔