LIVE
Loading Breaking News...

جے ڈی وانس: کینیڈا کی تجارتی پالیسیوں پر امریکہ کا سخت ردعمل

News Image
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وانس نے کینیڈا کی تجارتی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اسے چین نواز قرار دیا ہے۔ انہوں نے کینیڈا کے رویے کو امریکی مفادات کے منافی اور غیر منطقی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے حالیہ بیان میں کینیڈا کی تجارتی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے 'پاگل پن' قرار دیا ہے۔ ریاست مین میں رائے دہندگان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کینیڈا کا رویہ امریکہ کے مقابلے میں چین کے لیے کہیں زیادہ دوستانہ اور نرم ہے۔ جے ڈی وانس کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف حیران کن ہے بلکہ امریکی معاشی مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں۔ اس بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی توازن کو درست کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم کینیڈا کی جانب سے امریکہ کے ساتھ سخت رویہ اپنانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ جے ڈی وانس کا ماننا ہے کہ کینیڈا جان بوجھ کر چین جیسے حریف ملک کو ترجیح دے رہا ہے، جو کہ شمالی امریکہ کی معاشی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کینیڈا نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہ کی تو امریکہ جوابی ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) کے نفاذ جیسے سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگا، جس کے سنگین معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ادھر کینیڈا کی جانب سے ان الزامات کے بعد سفارتی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی کا بڑھنا شمالی امریکہ کے آزاد تجارتی معاہدوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ جے ڈی وانس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ بھر میں مقامی صنعتوں کے تحفظ اور چین کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ کسی بھی ایسی صورتحال کو قبول نہیں کرے گا جہاں کینیڈا اپنی مصنوعات کے لیے تو امریکی مارکیٹ کا فائدہ اٹھائے لیکن پالیسیوں میں چین کو امریکی مفادات پر فوقیت دے۔ آخر میں، یہ معاملہ اب ایک بڑے سفارتی اور معاشی تنازعے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جے ڈی وانس کے اس سخت بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور کینیڈا کے مابین تجارتی مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے کینیڈا کو اپنی تجارتی ترجیحات پر نظر ثانی کرنا ہوگی، بصورت دیگر تجارتی جنگ کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا جو دونوں پڑوسی ممالک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔