LIVE
Loading Breaking News...

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ایکسس ٹو فنانس اجلاس سے خطاب، معاشی اصلاحات پر زور

News Image
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ایکسس ٹو فنانس اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مالیاتی شعبے میں اہم پیشرفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی استحکام اور ٹیکس اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزارت خزانہ میں 'ایکسس ٹو فنانس' اسٹیئرنگ کمیٹی کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد ملک میں مالیاتی خدمات تک رسائی کے عمل کا جائزہ لینا اور ترجیحی شعبوں میں ہونے والی پیشرفت کا تفصیلی تجزیہ کرنا تھا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معاشی ترقی کے لیے مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں تک مالی وسائل کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس اجلاس میں بینکنگ اور مالیاتی اداروں کے کردار پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران سینیٹر محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ پاکستان کی معاشی بحالی کا دارومدار سخت مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس کے نظام میں اصلاحات پر ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے پروگرام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی پالیسیوں کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے اور عوامی ریلیف کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی استحکام کے بغیر پائیدار ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، لہذا تمام متعلقہ اداروں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ نے دیگر سرکاری منصوبوں کا بھی جائزہ لیا، جس میں وزیر اعظم کے 'اپنا گھر' ہاؤسنگ اسکیم کی نمایاں پیشرفت شامل ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اس اسکیم کے تحت درخواست دہندگان کی تعداد میں 52 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو عوام کی حکومتی منصوبوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ مالیاتی شعبے میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور ترجیحی شعبوں بشمول زراعت، صنعت اور ہاؤسنگ کے لیے فنانسنگ کے عمل کو مزید آسان بنایا جائے۔ اجلاس کے اختتام پر وزیر خزانہ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں معاشی بہتری کے مزید مثبت اشارے سامنے آئیں گے کیونکہ حکومت اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ نجی شعبے کے تعاون کے بغیر طویل مدتی معاشی اہداف کا حصول ممکن نہیں، اس لیے سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔