Business
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد کمی، امریکی پابندیوں کا اثر بے اثر
امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کو سرمایہ کاروں نے زیادہ اہمیت نہیں دی، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے شرکاء اس وقت دیگر معاشی عوامل اور رس رسد کی صورتحال پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی تجارت کے دوران ایک بڑا اور اہم رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں خام تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زائد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ کمی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم سرمایہ کاروں نے ان پابندیوں کو زیادہ خاطر میں نہیں لایا اور مارکیٹ کا ردعمل توقع سے بالکل مختلف رہا۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان پابندیوں سے فوری طور پر تیل کی عالمی رسد پر کوئی بڑا اور منفی اثر نہیں پڑے گا، جس کی وجہ سے منڈی میں گھبراہٹ پھیلنے کے بجائے معمول کی تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں۔ دوسری جانب، بین الاقوامی توانائی کے اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات، طلب میں سست روی اور دیگر پیداواری ممالک کی طرف سے سپلائی کے معاہدے تیل کی قیمتوں کے تعین میں زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ سیاسی صورتحال اور پابندیوں کے اعلانات کے باوجود سرمایہ کار اب زمینی حقائق اور تجارتی اعداد و شمار پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔ اس کمی کے بعد دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات اور توانائی کے شعبے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں اوپیک (OPEC) اور دیگر بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ممکنہ فیصلوں پر بھی مارکیٹ کی گہری نظریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح عالمی سرمایہ کار اب روایتی جیو پولیٹیکل خبروں کے مقابلے میں معاشی اشاریوں اور مارکیٹ کے بنیادی اصولوں کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔