LIVE
Loading Breaking News...

حبیب جالب کی بیٹی کے مسائل: ایک انقلابی شاعر کے خاندان کی بدحالی

News Image
پاکستان کے انقلابی شاعر حبیب جالب کی بیٹی کو گزر بسر کے لیے چھوٹا سا فوڈ اسٹال لگانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ اس افسوسناک صورتحال نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے جہاں عوام جالب کی خدمات کے صلے میں ان کے خاندان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
پاکستان کی ادبی تاریخ میں عوامی شاعر حبیب جالب کا نام ایک ایسی توانا آواز کے طور پر جانا جاتا ہے جنہوں نے ہمیشہ آمریت اور ظلم کے خلاف قلم کو ہتھیار بنایا۔ حبیب جالب کی شاعری آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس انقلابی شاعر نے اپنی پوری زندگی عام آدمی کے حقوق کے لیے جدوجہد میں گزاری، آج اسی کی اولاد معاشرتی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق حبیب جالب کی بیٹی کو اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے ایک چھوٹا سا فوڈ اسٹال لگانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے، جو کہ ایک انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر ایک شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں اور ادیبوں کا کہنا ہے کہ یہ اس ریاست کی ناکامی ہے کہ جس شاعر نے ملک کی فکری آبیاری کی، اس کے خاندان کو آج اپنی عزتِ نفس برقرار رکھنے کے لیے سڑکوں پر دھکے کھانے پڑ رہے ہیں۔ ایک طرف ملک میں بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، دوسری طرف ایک ایسے خاندان کو، جس نے ملک کو قومی اثاثہ دیا، انہیں معمولی نوعیت کا کاروبار کرنے سے بھی روکا جا رہا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جو ملک کی ثقافتی ورثے اور ادب کی قدر کرنے کے دعویدار ہیں۔ حبیب جالب کی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ محض ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس پورے نظام کی عکاسی کرتا ہے جہاں عام آدمی کی زندگی کو مشکل ترین بنا دیا گیا ہے۔ حبیب جالب نے اپنی شاعری میں جس طبقاتی کشمکش کا ذکر کیا تھا، آج ان کی اپنی بیٹی اسی کشمکش کا عملی نمونہ بنی ہوئی ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور حبیب جالب کے خاندان کو باعزت طریقے سے روزگار کمانے کی سہولت فراہم کریں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں شعراء کے اہل خانہ کو بھوکا پیاسا رکھا جائے، وہاں اخلاقی اقدار کے زوال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کی جانب سے فوری طور پر ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے حبیب جالب کے خاندان کی مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور انہیں ایک باعزت زندگی گزارنے کا موقع ملے۔