LIVE
Loading Breaking News...

سکول بیگز کا وزن اور بچوں کی صحت: حفاظتی اقدامات

News Image
امریکن اکیڈمی آف آرتھوپیڈک سرجنز نے سکول جانے والے بچوں کے بھاری بیگز سے بچاؤ کے لیے تین نکاتی حکمت عملی جاری کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق وزن کا درست توازن بچوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی طلباء اور والدین کے لیے سکول کے بھاری بیگز ایک بڑی تشویش کا باعث بن جاتے ہیں۔ امریکن اکیڈمی آف آرتھوپیڈک سرجنز (AAOS) کی حالیہ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، مسلسل بھاری بیگ اٹھانے سے بچوں کی نشوونما پاتی ہوئی ہڈیوں اور جوڑوں پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے، جس سے مستقبل میں کمر درد اور پٹھوں کی کمزوری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سکول جانے والے بچوں کی جسمانی ساخت ابھی نرم ہوتی ہے، اس لیے بھاری بوجھ ان کی ریڑھ کی ہڈی کی قدرتی شکل کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے آرتھوپیڈک ماہرین نے طلباء اور والدین کے لیے ایک سادہ تین نکاتی حکمت عملی تجویز کی ہے۔ سب سے پہلے، بیگ کا وزن بچے کے جسمانی وزن کے 10 سے 15 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ دوم، ہمیشہ دونوں کندھوں پر پٹیاں ڈال کر بیگ اٹھایا جائے تاکہ وزن متوازن رہے، کیونکہ ایک کندھے پر وزن ڈالنے سے کمر کی ہڈی ٹیڑھی ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ سوم، بیگ میں موجود کتابوں اور سامان کی ترتیب ایسی ہونی چاہیے کہ بھاری اشیاء کمر کے قریب رہیں، جس سے جسم کا توازن بہتر رہتا ہے اور کندھوں پر کم دباؤ پڑتا ہے۔ والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے بیگز کا باقاعدگی سے معائنہ کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ بیگ کی پٹیاں چوڑی اور پیڈڈ ہوں تاکہ کندھوں پر نشان نہ پڑیں۔ اگر کسی بچے کو بیگ اٹھانے کے دوران گردن، کمر یا کندھوں میں درد محسوس ہو، تو اسے نظر انداز نہ کیا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے بچوں کو سکولی دور کے دوران ہونے والی جسمانی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ تعلیمی سال کے دوران بچوں کی صحت اور جسمانی تندرستی کے لیے سکول بیگ کے استعمال میں احتیاط ایک بنیادی ضرورت ہے۔