Business
ناروے کی تیل و گیس کی صنعت میں 2030 کے بعد گراوٹ کا انتباہ
ناروے کے آف شور ڈائریکٹوریٹ نے خبردار کیا ہے کہ نئے ذخائر کی تلاش سے زیادہ رفتار سے تیل اور گیس کی پیداوار کی وجہ سے 2030 کے بعد بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ موجودہ سرگرمیوں کے باوجود طویل مدتی پیداوار میں تیزی سے کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ناروے کے آف شور ڈائریکٹوریٹ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ناروے کی تیل اور گیس کی صنعت کو مستقبل میں شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ناروے اس وقت تیل اور گیس کے ذخائر کو جس رفتار سے نکال رہا ہے، صنعت اتنی تیزی سے نئے ذخائر دریافت کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ یہی عدم توازن 2030 کے بعد پیداوار میں تیزی سے گراوٹ کا باعث بن سکتا ہے، جو ناروے کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ اگرچہ موجودہ دور میں ناروے میں تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار کی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور ملک یورپ کے لیے توانائی کا ایک اہم ذریعہ بنا ہوا ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال دیرپا نہیں ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر نئے ایکسپلوریشن پروجیکٹس اور سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں کیا گیا تو پیداواری صلاحیت برقرار رکھنا ناممکن ہوگا۔ ناروے کی معیشت کا ایک بڑا انحصار تیل اور گیس کی برآمدات پر ہے، لہذا یہ انتباہ ملکی پالیسی سازوں کے لیے ایک الارم کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکومتی سطح پر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر پیداوار میں نمایاں کمی آئی تو نہ صرف ناروے کی اپنی آمدنی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ یورپی منڈیوں میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں ناروے نے اپنے تیل کے شعبے میں ٹیکنالوجی اور تحقیق پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے، لیکن اب نئے دریافت ہونے والے ذخائر کی مقدار توقعات سے کم ہے، جو طویل مدتی منصوبوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، توانائی کی عالمی منڈی میں بدلتے ہوئے حالات اور قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے دباؤ کے باوجود، ناروے کو ابھی بھی اپنی روایتی توانائی کی صنعت کو سہارا دینے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگر 2030 کے بعد پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے تو ملک کو مالیاتی خسارے سے بچنے کے لیے اپنی اقتصادی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ حکومت اب ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئی ایکسپلوریشن پالیسیوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر غور کر رہی ہے تاکہ قدرتی وسائل کے خاتمے کی رفتار کو متوازن کیا جا سکے۔ یہ صورتحال ناروے کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ کس طرح اپنے توانائی کے اثاثوں کو محفوظ رکھ کر مستقبل میں بھی عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکتا ہے۔