LIVE
Loading Breaking News...

جان اولیور کا شان ڈفی کے نئے ریئلٹی شو پر طنزیہ تبصرہ

News Image
معروف مزاحیہ فنکار جان اولیور نے اپنے شو لاسٹ ویک ٹونائٹ میں شان ڈفی کے ریئلٹی شو پر کڑی تنقید کی ہے۔ اولیور نے شو کے طویل دورانیے اور مواد کو غیر معیاری قرار دیتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا ہے۔
مشہور امریکی مزاحیہ فنکار اور میزبان جان اولیور نے اپنے مقبول شو 'لاسٹ ویک ٹونائٹ' (Last Week Tonight) میں ریپبلکن سیاستدان اور سابق ریئلٹی اسٹار شان ڈفی کے نئے ٹی وی پروجیکٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جان اولیور نے اپنے طنزیہ انداز میں شان ڈفی کے ریئلٹی شو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے اس شو کے پورے تین گھنٹے مکمل طور پر دیکھے، جو کہ اپنے آپ میں ایک صبر آزما کام تھا۔ اولیور کے مطابق یہ شو معیار کے اعتبار سے انتہائی پست ہے اور اس کی طوالت ناظرین کے لیے کسی سزا سے کم نہیں ہے۔ اولیور نے شو کے مواد اور پروڈکشن ویلیو پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے 'خدا کا خوف نہ رکھنے والا' (God-Awful) قرار دیا اور کہا کہ اس قسم کے مواد کو ٹیلی ویژن پر پیش کرنا دراصل ناظرین کے وقت کا ضیاع ہے۔ انہوں نے شو کے مختلف کلپس دکھا کر حاضرین کو اس بات پر آمادہ کیا کہ کس طرح غیر سنجیدہ مواد کو ایک سنجیدہ ریئلٹی شو کے طور پر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ جان اولیور کا کہنا تھا کہ شان ڈفی، جو پہلے ہی ریئلٹی شوز کی دنیا میں نام بنا چکے ہیں، اب اپنے اس نئے تجربے میں وہ جادو پیدا کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں جو ماضی کے شوز میں نظر آتا تھا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جان اولیور کا یہ طنزیہ تبصرہ دراصل جدید دور کے میڈیا میں 'کوالٹی' کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ اولیور کے شو میں اکثر ایسے موضوعات کو اٹھایا جاتا ہے جن میں سوشل میڈیا یا ٹیلی ویژن کے غیر معیاری رجحانات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ شان ڈفی کے حوالے سے کی گئی یہ تنقید نہ صرف شو کے میزبان کے لیے ایک دھچکا ہے بلکہ یہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی ایک سبق ہے جو کمزور سکرپٹ اور غیر ضروری طوالت کے ساتھ ٹی وی پر واپسی کی کوشش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس تبصرے کے بعد بحث چھڑ گئی ہے، جہاں صارفین دو حصوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ کچھ افراد اولیور کے تبصرے کو درست قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ محض ایک کامیڈی شو کا حصہ ہے۔ بہرحال، جان اولیور نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ٹی وی مواد کو کس قدر باریکی سے دیکھتے ہیں اور اس کی خامیوں کو کس طرح منظر عام پر لاتے ہیں۔