Technology
اے آئی کے دور میں بھرتی کا عمل اور امیدواروں کو درپیش مشکلات
ملازمتوں کی تلاش میں مصروف امیدواروں کو اب بھرتی کے جدید اے آئی سسٹمز کے پیچیدہ الگورتھمز کا سامنا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی امیدواروں کو پرکھنے کے ایسے پوشیدہ طریقے استعمال کر رہی ہے جو عام ملازمت ڈھونڈنے والوں کی سمجھ سے باہر ہیں۔
جدید دور میں جب ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، ملازمت کے حصول کا روایتی طریقہ کار مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ آج کل زیادہ تر کمپنیاں امیدواروں کی درخواستوں کو پرکھنے کے لیے 'ایپلیکنٹ ٹریکنگ سسٹمز' (ATS) کا استعمال کر رہی ہیں جو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) سے لیس ہیں۔ یہ سسٹم نہ صرف سی وی کو فلٹر کرتے ہیں بلکہ امیدواروں کی اہلیت کو ایک مخصوص اسکور کے ذریعے درجہ بندی بھی کرتے ہیں، جس سے ملازمت کے متلاشی افراد کے لیے یہ عمل کافی پیچیدہ اور غیر شفاف ہو گیا ہے۔
گرین ہاؤس جیسے بڑے ریکروٹمنٹ پلیٹ فارمز اب اے آئی ٹولز کی مدد سے لاکھوں درخواستوں کو سیکنڈوں میں پروسیس کر رہے ہیں۔ تاہم، مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے امیدواروں کو ان 'غیر مرئی' قواعد کا علم ہی نہیں ہے جن پر یہ الگورتھم مبنی ہیں۔ جب کوئی امیدوار اپنی سی وی جمع کرواتا ہے، تو اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آیا اس کی دستاویز میں موجود کلیدی الفاظ (Keywords) اس خاص سافٹ ویئر کے معیار پر پورے اترتے ہیں یا نہیں۔ یہ ایک ایسا تکنیکی جال ہے جہاں ایک چھوٹی سی غلطی یا فارمیٹنگ کی تبدیلی امیدوار کو مقابلے کی دوڑ سے باہر کر سکتی ہے۔
ملازمت کے متلاشی افراد کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ان کی صلاحیتوں کو انسانی نظر کے بجائے اعداد و شمار کی ایک مشین کی طرح دیکھتی ہے، جس سے ملازمت کے مواقع میں غیر منصفانہ رویے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ان سسٹمز کو سمجھنا اب ایک فن بن چکا ہے، جہاں امیدواروں کو اپنے تجربے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سیکھنا پڑ رہا ہے کہ وہ کس طرح اے آئی فرینڈلی ریزیومے تیار کریں تاکہ وہ فلٹر ہونے سے بچ سکیں۔
مستقبل میں یہ چیلنج مزید بڑھ سکتا ہے کیونکہ کمپنیاں بھرتی کے عمل کو تیز اور سستا کرنے کے لیے مزید خودکار ٹولز پر انحصار کر رہی ہیں۔ ملازمت کے متلاشی افراد کو اب صرف اپنی تعلیمی قابلیت پر ہی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے ان خفیہ معیارات پر بھی توجہ دینی ہوگی تاکہ وہ جدید دور کے اس 'ڈیجیٹل فلٹر' کو عبور کر سکیں۔ یہ صورتحال ملازمت کے متلاشیوں کے لیے ایک نئی آزمائش بن کر سامنے آئی ہے جس کا کوئی واضح حل تاحال موجود نہیں۔