LIVE
Loading Breaking News...

بینکنگ سیکٹر اور ڈیجیٹل اثاثے: سرمایہ کاری اور نفاذ کا فرق

News Image
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر بینکنگ کے شعبے میں ڈیجیٹل اثاثوں پر سرمایہ کاری کی شرح 89 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم عملی نفاذ اور تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے صرف 16 فیصد بینک ہی اپنے پروجیکٹس کو صارفین تک پہنچانے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔
موجودہ دور میں عالمی بینکنگ کے شعبے میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جہاں روایتی بینک اپنی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں اور جدید ٹیکنالوجی کی جانب گامزن ہیں۔ ایک حالیہ مالیاتی تجزیے کے مطابق دنیا بھر کے تقریباً 89 فیصد بینکوں نے ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق مختلف اقدامات اور منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مالیاتی ادارے مستقبل کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے بلاک چین اور ڈیجیٹل کرنسی جیسے شعبوں میں اپنی موجودگی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ تاہم، یہ سرمایہ کاری صرف ایک پہلو ہے، جبکہ اصل چیلنج اس کا عملی نفاذ ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اتنی بڑی سطح پر سرمایہ کاری کے باوجود صرف 16 فیصد بینک ہی ایسے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوئے ہیں جو صارفین تک پہنچ سکیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ بینکنگ سیکٹر کے اندر سرمایہ کاری اور ان منصوبوں کی تکمیل کے درمیان ایک گہری خلیج موجود ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تاخیر کی بنیادی وجوہات میں پیچیدہ ریگولیٹری تقاضے، سائبر سیکیورٹی کے خدشات، اور موجودہ پرانے آئی ٹی انفراسٹرکچر کا جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونا شامل ہیں۔ بینکوں کو ان تکنیکی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے لیے مزید بہتر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب، فن ٹیک (FinTech) کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی مسابقت نے روایتی بینکوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ فن ٹیک ادارے انتہائی تیزی کے ساتھ نئی مالیاتی مصنوعات متعارف کروا رہے ہیں، جس سے روایتی بینکوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کریں۔ اگر بینک اپنے ڈیجیٹل اثاثوں کے ویژن کو عملی شکل دینے میں ناکام رہتے ہیں، تو انہیں اپنے صارفین کا اعتماد برقرار رکھنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بینکوں کو نہ صرف فنڈز مختص کرنے ہوں گے بلکہ اپنی تنظیمی ساخت میں بھی تبدیلیاں لانا ہوں گی تاکہ ڈیجیٹل منتقلی کا عمل تیز ہو سکے۔ ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں بقا کے لیے بینکوں کو نفاذ کی رفتار بڑھانے اور اپنی خدمات کو زیادہ صارف دوست بنانے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی، بصورت دیگر وہ مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات سے پیچھے رہ جائیں گے۔