LIVE
Loading Breaking News...

دبئی اور انڈیا کے درمیان اے آئی ٹیکنالوجی کا نیا کوریڈور

News Image
دبئی اور بنگلورو کے درمیان اے آئی کوریڈور کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس کا مقصد انڈین ٹیلنٹ کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ دبئی کے حکام کے مطابق اس اقدام سے مختلف صنعتوں کی پیداواری صلاحیت اور منافع میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
دبئی چیمبر آف کامرس کے صدر اور سی ای او محمد علی راشد لوٹاہ نے اعلان کیا ہے کہ دبئی انڈین مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹیلنٹ کے لیے ایک بہترین عالمی لانچ پیڈ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وژن کے تحت دبئی اور انڈیا کے شہر بنگلورو کے درمیان ایک خصوصی 'اے آئی کوریڈور' قائم کیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد انڈین ٹیکنالوجی ماہرین اور سٹارٹ اپس کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام سے دونوں خطوں کے درمیان تکنیکی تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے اور جدت طرازی کو فروغ ملے گا۔ اس منصوبے کے تحت دبئی اپنے دوستانہ ریگولیٹری فریم ورک اور عالمی معیار کے انفراسٹرکچر کا استعمال کرتے ہوئے انڈین ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی موجودگی مستحکم کرنے میں مدد دے گا۔ محمد علی راشد لوٹاہ کے مطابق، مصنوعی ذہانت کا شعبہ نہ صرف دبئی کی معیشت کے لیے اہم ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر صنعتی پیداواری صلاحیت اور منافع بڑھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کوریڈور کے قیام سے انڈین کمپنیاں دبئی کو ایک مرکز کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کی مارکیٹوں تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گی۔ مزید برآں، دبئی کا ریگولیٹری ماحول ٹیکنالوجی اور اے آئی سے وابستہ کاروباروں کے لیے انتہائی سازگار ہے، جو اسے عالمی سطح پر پرکشش بناتا ہے۔ اس اشتراک سے انڈین ٹیلنٹ کو عالمی معیار کے چیلنجز کا سامنا کرنے کا موقع ملے گا اور دبئی کی ڈیجیٹل معیشت کو بھی ایک نئی جہت ملے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرے گا اور خاص طور پر سافٹ ویئر انجینئرنگ اور ڈیٹا سائنس کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ آنے والے وقت میں اس کوریڈور کے ذریعے اے آئی کے شعبے میں تحقیق، ڈیویلپمنٹ اور سرمایہ کاری کے نئے سنگ میل عبور کیے جائیں گے۔ دبئی کی جانب سے فراہم کردہ یہ پلیٹ فارم انڈین ٹیکنالوجی کے ماہرین کو ایک ایسا ماحول فراہم کرے گا جہاں وہ اپنے خیالات کو عالمی سطح پر لاگو کر سکیں گے۔ اس پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ دیگر ممالک بھی دبئی کے ساتھ اسی طرح کے تکنیکی اشتراک کے لیے رابطے کریں گے، جس سے دبئی کا شمار دنیا کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی ہبز میں ہوگا۔