LIVE
Loading Breaking News...

بھارت اور یو اے ای تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کا فروغ

News Image
بھارت اور متحدہ عرب امارات کے مابین اقتصادی تعلقات میں تیزی دیکھی جا رہی ہے جس کے تحت گذشتہ ایک دہائی کے دوران 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی ہے۔ دونوں ممالک اب مستقبل میں مزید بڑے تجارتی معاہدوں اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔
بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قائم اقتصادی تجارتی راہداری دونوں ممالک کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ دس سالوں کے دوران متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھارت میں 25 ارب ڈالر سے زائد کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے ہوتے اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف دونوں ملکوں کے باہمی اعتماد کو ظاہر کرتی ہے بلکہ مستقبل میں مزید وسیع کاروباری مواقع کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سطح کے ایگزیکٹوز اور سرمایہ کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، تاہم اس عمل کو مزید تیز کرنے کے لیے کچھ اہم اصلاحات کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر تنازعات کے فوری حل کے لیے ایک مؤثر عدالتی اور قانونی نظام کا قیام اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں جدید سہولیات کی فراہمی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ یو اے ای کے تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت ان شعبوں میں مزید شفافیت اور آسانی پیدا کرے تو سرمایہ کاری کا حجم موجودہ سطح سے کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین ہونے والی اس پیش رفت کا مقصد صرف تجارتی لین دین تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ دونوں معیشتوں کو باہم مربوط کرنے کا ایک منصوبہ بھی ہے۔ بھارت اپنے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے لیے کوشاں ہے، جبکہ یو اے ای اپنے سرمائے کو عالمی سطح پر پھیلانے کے لیے بھارت کو ایک محفوظ اور منافع بخش مرکز سمجھتا ہے۔ مستقبل قریب میں دونوں ممالک کی جانب سے توانائی، ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے اعلان کی توقع کی جا رہی ہے۔ آخر میں، ماہرین معاشیات کا یہ ماننا ہے کہ بھارت اور یو اے ای کا یہ اقتصادی سفر خطے میں معاشی استحکام کا باعث بنے گا۔ اگر دونوں حکومتیں مل کر پالیسیوں میں مزید لچک لاتی ہیں اور کاروباری رکاوٹوں کو دور کرتی ہیں تو یہ تجارتی راہداری نہ صرف 25 ارب ڈالر سے آگے نکل جائے گی بلکہ یہ جنوبی ایشیا اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارت کی ایک نئی اور کامیاب مثال بھی قائم کرے گی۔