World
امریکی طیارے کی آبنائے تائیوان میں آمد، چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
امریکی بحریہ کے ایک نگرانی کرنے والے طیارے نے پانچ ماہ کے وقفے کے بعد آبنائے تائیوان سے پرواز کی ہے۔ یہ اقدام چینی صدر کے دورہ امریکہ سے قبل دونوں طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
امریکی بحریہ کے ایک نگرانی کرنے والے طیارے نے جمعہ کے روز آبنائے تائیوان سے پرواز کی ہے، جو گزشتہ پانچ ماہ کے دوران پہلی بار عوامی سطح پر رپورٹ کی گئی ہے۔ اس پیش رفت نے چینی عسکری حکام کی توجہ مبذول کرائی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چینی صدر شی جن پنگ کے متوقع دورہ وائٹ ہاؤس اور امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ہونے والی ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس پرواز کو خطے میں امریکی موجودگی کے اظہار اور اپنے اتحادیوں کو اعتماد دلانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پرواز بین الاقوامی قانون کے مطابق اور آزادی جہاز رانی کے حق کے تحت کی گئی ہے، تاہم بیجنگ اسے اپنی خود مختاری کے خلاف ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیتا ہے۔ چین اکثر امریکی جنگی بحری جہازوں اور طیاروں کی آبنائے تائیوان میں نقل و حرکت پر سخت اعتراض کرتا رہا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں عسکری کشیدگی کا خدشہ ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ اس پرواز کے دوران چینی فوج نے طیارے کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی اور اسے اپنے ریڈار پر ٹریس کیا، تاہم کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ پرواز اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ واشنگٹن اپنی اسٹریٹجک پالیسی پر قائم ہے جس کا مقصد بحر الکاہل میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو توازن فراہم کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں چینی صدر کے امریکہ کے دورے کے تناظر میں یہ واقعہ سفارتی سطح پر نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے تجارتی اور تکنیکی تنازعات کے ساتھ ساتھ تائیوان کا معاملہ سب سے زیادہ حساس ترین ایشو رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کا موقف ہے کہ وہ بین الاقوامی فضائی حدود میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے، جبکہ چین اس علاقے کو اپنا حصہ قرار دیتے ہوئے وہاں بیرونی مداخلت کو ہر صورت مسترد کرتا ہے۔ اس تازہ ترین واقعے کے بعد عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا دونوں عالمی طاقتیں اس قسم کے واقعات کو سفارتی سطح پر حل کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کر پائیں گی یا خطے میں عسکری محاذ آرائی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔