Business
نرملا سیتارامن کا دورہ شمالی امریکہ: سرمایہ کاری کے لیے اہم ملاقاتیں
بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے کینیڈا اور امریکہ کا دورہ کریں گی۔ اس دورے کے دوران وہ عالمی کارپوریٹ رہنماؤں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ جی 20 کے اہم اجلاسوں میں بھی شرکت کریں گی۔
بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن 25 اگست سے کینیڈا اور امریکہ کے ایک اہم دورے پر روانہ ہو رہی ہیں جس کا بنیادی مقصد بھارت میں بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران وہ کینیڈا اور امریکہ کے نامور عالمی سرمایہ کاروں اور بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اعلیٰ ایگزیکٹوز سے خصوصی ملاقاتیں کریں گی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد بھارت میں موجود کاروباری مواقع کو اجاگر کرنا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت عالمی سطح پر اپنی معاشی حیثیت کو مزید مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ وزیر خزانہ ان ملاقاتوں کے ذریعے بھارت کی ٹیکس اصلاحات اور 'میک ان انڈیا' جیسے اقدامات کے بارے میں سرمایہ کاروں کو بریفنگ دیں گی تاکہ انہیں طویل مدتی سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا جا سکے۔ اس دورے کا ایک اہم حصہ جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنرز کا اجلاس بھی ہے۔ سیتارامن ان اجلاسوں میں شرکت کر کے عالمی معاشی بحران، مہنگائی اور عالمی سپلائی چین کے چیلنجز پر بھارت کا نقطہ نظر پیش کریں گی۔ جی 20 پلیٹ فارم پر ان کی موجودگی سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ عالمی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے دیگر ممالک کے وزرائے خزانہ کے ساتھ مل کر اہم پالیسی سازی میں کردار ادا کریں گی۔ ماہرین کے مطابق نرملا سیتارامن کا یہ دورہ بھارت کی سفارت کاری اور معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکہ اور کینیڈا کے ساتھ کاروباری تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ کینیڈا کے پنشن فنڈز اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بھارت میں دلچسپی بڑھانے کے لیے یہ دورہ ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیر خزانہ کی ان ملاقاتوں سے نہ صرف بھارت کی سرمایہ کاری میں بہتری متوقع ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر بھارت کی بڑھتی ہوئی معاشی ساکھ کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ دورے کے اختتام پر توقع کی جا رہی ہے کہ بھارت میں سرمایہ کاری کے نئے معاہدوں اور باہمی تعاون کے لیے روڈ میپ تیار کیا جائے گا جو آنے والے مہینوں میں ملکی معیشت کے لیے معاون ثابت ہوگا۔