Pakistan
اڈیالہ جیل میں عمران خان اور ان کی ہمشیرہ کی ملاقات
سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی نے مسلسل دوسرے ہفتے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی۔ اس دوران حکومتی وزراء کی جانب سے عدالتی احکامات اور طبی سہولیات کے حوالے سے بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی نے مسلسل دوسرے ہفتے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کی سیاسی صورتحال انتہائی اہم موڑ پر ہے اور پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے رہنما کی رہائی اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے قانونی و سیاسی جدوجہد جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں خاندانی امور کے ساتھ ساتھ موجودہ ملکی حالات اور پارٹی کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے عمران خان کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور سیکیورٹی خدشات پر متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کی وضاحت کے بعد عمران خان کے طبی معائنے اور علاج سے متعلق احکامات پر عملدرآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی ترجیح عدالتی فیصلوں کی پاسداری ہے، تاہم سیکیورٹی کے معاملات پر کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔
دریں اثنا، طارق فضل چوہدری نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم پارٹی کی جانب سے ان دعوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور پی ٹی آئی نے جیل میں طبی سہولیات کی عدم فراہمی پر توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔ پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ عمران خان کو بنیادی آئینی اور انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور حکومتی بیانات صرف وقت گزارنے کا حربہ ہیں۔
موجودہ صورتحال نے ملکی سیاست میں ایک بار پھر گرما گرمی پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف قانونی جنگ عدالتوں میں جاری ہے تو دوسری طرف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر چلا رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عمران خان کی جیل میں موجودگی اور ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، کیونکہ پی ٹی آئی اپنی تحریک کو مزید منظم کرنے اور اپنے مطالبات منوانے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔