World
بھارت میں احتجاج: پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم
بھارتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں سیکیورٹی رکاوٹوں کو توڑنے والے مظاہرین کے خلاف پولیس نے طاقت کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ ایک ماہ قبل شروع ہونے والی نسلِ نو کی تحریک کے تناظر میں ہونے والے اس احتجاج میں پولیس نے واٹر کینن اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا۔
بھارت کی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اس وقت شدید کشیدگی دیکھی گئی جب ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے سرکاری سیکیورٹی حصار اور رکاوٹوں کو توڑنے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک بھر میں نوجوان نسل کی جانب سے شروع کیے گئے مظاہروں کو ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور انہیں منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں افراتفری کا عالم رہا۔
اس احتجاج کا پس منظر گزشتہ ماہ شروع ہونے والی نسلِ نو کی عوامی تحریک ہے، جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل کر اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھا رہی ہے۔ پٹنہ میں ہونے والے حالیہ مظاہرے میں شرکاء نے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے وعدوں اور موجودہ سیاسی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ جیسے ہی مظاہرین نے دارالحکومت کے اہم داخلی راستوں پر قائم سیکیورٹی بیریئرز کو عبور کرنے کی کوشش کی، پولیس فورس نے فوری ردعمل دیتے ہوئے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ واٹر کینن کی بوچھاڑ اور ڈنڈوں کے بے دریغ استعمال سے کئی مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے علاقے میں دفعہ 144 کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے مظاہرین کو وہاں سے ہٹنے کی تنبیہ کی تھی، تاہم ہجوم نے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔ حکومتی حکام کے مطابق عوامی املاک کو نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے پولیس کا ایکشن ضروری تھا۔ دوسری جانب مظاہرین کے قائدین نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج ان کا بنیادی آئینی حق ہے اور طاقت کے استعمال سے ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
فی الحال پٹنہ کے حساس علاقوں میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں اور حساس مقامات کا رخ نہ کریں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے مظاہرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو یہ تحریک آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے خطے میں امن و امان کی صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔