World
غزہ میں امدادی ٹرکوں کی روک تھام: انسانی بحران میں اضافہ
اسرائیلی مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے غزہ پٹی میں داخل ہونے والی امدادی ٹرکوں کے قافلے کو راستے میں ہی روک دیا ہے۔ اس اقدام کے باعث محصور فلسطینیوں تک انسانی امداد کی ترسیل میں شدید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔
غزہ کی پٹی میں جاری شدید انسانی بحران کے دوران اسرائیلی مظاہرین کی جانب سے امدادی ٹرکوں کو روکنے کا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے ان ٹرکوں کا راستہ بلاک کر دیا جو بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے بھیجی گئی خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء لے کر غزہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس رکاوٹ کے باعث امداد کا تسلسل بری طرح متاثر ہوا ہے جس سے پہلے ہی قحط اور ادویات کی کمی کا شکار فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ غزہ میں جاری لڑائی کے اثرات سے بچنے کے لیے خوراک کی فراہمی کو بلا تعطل جاری رکھنا ناگزیر ہے۔ مظاہرین کا موقف ہے کہ وہ ان ٹرکوں کی غزہ تک رسائی کے خلاف ہیں، تاہم بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی ملک یا گروہ کی جانب سے انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنا سنگین خلاف ورزی شمار کیا جاتا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے محدود اقدامات کیے گئے تاہم ٹرکوں کی بروقت منزل تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں پہلے ہی ہسپتال اپنی گنجائش سے زیادہ مریضوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور ادویات کی عدم دستیابی کے باعث کئی مریضوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔ امدادی ٹرکوں کا رکنا ان مریضوں کے لیے سزائے موت کے مترادف ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی ہمدردی کے اداروں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ امدادی قافلے کسی بھی رکاوٹ کے بغیر متاثرہ علاقوں تک پہنچ سکیں۔ یہ صورتحال خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے اور امداد کی ترسیل کو سیاسی تنازعات سے دور رکھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔