World
مقبوضہ بیت المقدس: اقوام متحدہ کے مرکز پر اسرائیلی فورسز کا قبضہ اور پرچم کشائی
مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والے ایک تربیتی مرکز پر دھاوا بول دیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران عمارت پر اسرائیلی پرچم لہرایا گیا جس کی اسرائیلی وزیر بن گویر نے تعریف کی ہے۔
مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں کشیدگی کے ایک نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والے ایک اہم تربیتی مرکز پر دھاوا بول دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے نہ صرف اس عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا بلکہ وہاں علامتی طور پر اسرائیلی پرچم بھی لہرا دیا۔ یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے اداروں کے تقدس کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ علاقے میں تعینات اقوام متحدہ کے عملے کو سخت دباؤ اور تلاشی کے عمل سے گزارا گیا، جس کے بعد سے وہاں کام کرنے والے بین الاقوامی رضاکاروں اور مقامی سٹاف میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
اس واقعے کے بعد اسرائیلی کابینہ کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے اس کارروائی کی کھل کر حمایت کی اور اسے ایک کامیابی قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بن گویر نے اسرائیلی فورسز کے اس اقدام پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے اپنی حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد بیت المقدس میں موجود عالمی اداروں کے اثر و رسوخ کو کم کرنا اور علاقے میں اپنی مکمل بالا دستی قائم کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذرائع نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم تاحال کسی بڑے سفارتی ردعمل کا انتظار ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کارروائی کو بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دے رہی ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پہلے ہی مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے مابین حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کی تنصیبات کو نشانہ بنانا آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے اور عالمی برادری پر دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ اس مداخلت کا نوٹس لے۔
اسرائیلی فورسز کی جانب سے اس طرح کی کارروائیوں کا تسلسل یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اپنی توسیعی پالیسیوں کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے عام شہریوں کے لیے کام کرنے والے امدادی اداروں کی سکیورٹی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اقوام متحدہ اس واقعے پر کیا باضابطہ موقف اختیار کرتا ہے اور کیا عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف کوئی سخت سفارتی لائحہ عمل سامنے آئے گا۔