Pakistan
احسن اقبال کا دریائے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار
وفاقی وزیر احسن اقبال نے خبردار کیا ہے کہ دریائے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس معاملے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے دریائے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کے حوالے سے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں خطے کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری ہر ملک کی ذمہ داری ہے، خاص طور پر جب معاملہ پانی جیسے اہم اور حساس وسیلے سے جڑا ہو جو کروڑوں لوگوں کی زندگی اور زراعت کا دارومدار ہے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیاں یا پانی کے بہاؤ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک خطرناک رجحان ہے جو دوطرفہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے اور پانی کی کسی بھی قسم کی رکاوٹ ملکی زرعی شعبے اور فوڈ سیکیورٹی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ عالمی برادری اور ورلڈ بینک، جو اس معاہدے کا ضامن ہے، کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور پانی کے معاملے پر غیر جانبداری برقرار رکھے۔ انہوں نے کہا کہ پانی پر سیاست کرنا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ خطے کے ماحولیاتی توازن کو بھی بگاڑ رہا ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان اس معاملے پر اپنے موقف پر قائم ہے اور سفارتی سطح پر اسے ہر فورم پر اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کئی دہائیوں سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان پانی کے تنازعات کو حل کرنے کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس معاہدے کی افادیت پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ احسن اقبال نے واضح کیا کہ پانی کسی بھی قوم کے لیے بقا کا مسئلہ ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پانی کی ترسیل اور ذخائر کی نگرانی کو مزید موثر بنائیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیار رہا جا سکے۔ پاکستان کی جانب سے اس معاملے کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھانے کا مقصد عالمی ضمیر کو جگانا ہے تاکہ پانی جیسے انسانی حق کو کسی بھی صورت میں جنگ یا دباؤ کا ہتھیار نہ بنایا جائے۔