LIVE
Loading Breaking News...

پیٹرول کی نئی قیمتیں جاری، حکومت نے اضافہ کر دیا

News Image
حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ قیمتوں میں اس اضافے سے مہنگائی کے نئے دور کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں پیٹرول کی نئی قیمتوں کا اطلاق ہو گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر یہ اقدام ناگزیر تھا۔ نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد عام آدمی کی جیب پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے اور عوام کی جانب سے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر پڑے گا۔ پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے سپلائی چین متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی ترسیل کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا حتمی بوجھ صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے۔ حکومت نے اس اضافے کا دفاع کرتے ہوئے اسے عالمی مارکیٹ کے حالات سے جوڑا ہے، تاہم عوامی حلقے مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ریلیف نہ ملنے پر پریشان ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور تاجر برادری نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام کش فیصلہ قرار دیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث کاروبار شدید مندی کا شکار ہیں اور ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ان کی پیداواری لاگت کو ناقابل برداشت حد تک بڑھا دے گا۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت ایندھن پر ٹیکسوں کی شرح میں کمی کرے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے اور ملک میں افراطِ زر کی شرح کو کنٹرول کیا جا سکے۔ حکومت نے فی الحال قیمتوں میں اضافے کے علاوہ کسی بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان نہیں کیا ہے، تاہم وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ عالمی منڈی کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر قیمتوں میں کمی آتی ہے تو اس کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے گا۔ اس وقت ملک بھر کے پیٹرول پمپس پر نئی قیمتوں کا اطلاق ہو چکا ہے اور ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں اضافے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ عوام کی نظریں اب حکومت کی اگلی پالیسی اور مہنگائی کو روکنے کے اقدامات پر مرکوز ہیں۔