LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب کا بحری دفاعی اتحاد، بحر احمر میں سیکیورٹی اقدامات تیز

News Image
سعودی عرب نے بحر احمر میں تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک نئے بحری دفاعی اتحاد کا اعلان کیا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور حوثی حملوں کے پیش نظر اس قدم کا مقصد بین الاقوامی بحری تجارت کا تحفظ کرنا ہے۔
ریاض: سعودی عرب نے بحر احمر میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات اور حوثی باغیوں کے حملوں کے پیش نظر ایک نئے بحری دفاعی اتحاد کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد خطے کے اہم آبی راستوں کو محفوظ بنانا اور بحری تجارت کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں حوثی حملوں کی وجہ سے عالمی سطح پر سپلائی چین کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں، جس کے بعد یہ فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس نئے بحری اتحاد میں علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کو شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت بحر احمر اور خلیج عدن میں سیکیورٹی کو فول پروف بنایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم خطے میں پھیلتی ہوئی جنگ اور کشیدگی کو قابو کرنے کی ایک اہم کوشش ہے، کیونکہ حالیہ دنوں میں مصر اور دیگر ممالک بھی اس تنازع کی زد میں آتے دکھائی دیے ہیں۔ اس سے قبل، اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے حوثی حملوں کے خلاف سخت ردعمل دینے کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں، جن میں سمندری اور زمینی سطح پر ممکنہ کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے بحر احمر کے راستے ہونے والی عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے اس طرح کے اتحادوں کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ دنیا بھر میں اشیائے خوردونصب اور توانائی کی ترسیل بلا تعطل جاری رہ سکے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سمندری حدود اور اہم تجارتی گزرگاہوں کا دفاع اولین ترجیح ہے۔ اس نئے دفاعی اتحاد کے قیام سے نہ صرف حوثی ملیشیا کے حملوں کا مؤثر جواب دینے میں مدد ملے گی بلکہ خطے میں طویل المدتی امن و استحکام کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ تمام متعلقہ ممالک اب اس بحری اتحاد کے تحت مشترکہ گشت اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو مزید فعال بنانے پر کام کر رہے ہیں۔