Technology
مصنوعی ذہانت 2026: کیا AI اخراجات کا زیادہ تر حصہ ماڈلز پر جا رہا ہے؟
ایپیکس انسٹیٹیوٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت پر ہونے والے اخراجات کا زیادہ تر حصہ ماڈلز کی بجائے بنیادی انفراسٹرکچر پر خرچ ہو رہا ہے۔ یہ تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ مستقبل میں کمپیوٹنگ پاور اور ڈیٹا مینجمنٹ کے شعبوں میں سرمایہ کاری سب سے زیادہ اہم ہوگی۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے جاری بحث میں اکثر لوگ صرف جدید ماڈلز اور ان کی صلاحیتوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، لیکن ایپیکس انسٹیٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ نے اس بحث کو ایک نئی سمت دی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2026 تک مصنوعی ذہانت پر ہونے والے بھاری بھرکم اخراجات کا ایک بہت بڑا حصہ براہ راست اے آئی ماڈلز پر خرچ نہیں ہو رہا، بلکہ یہ رقم ان ماڈلز کو چلانے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے یعنی انفراسٹرکچر کی تعمیر پر صرف کی جا رہی ہے۔ یہ ایک اہم انکشاف ہے جو بتاتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا کا مرکز اب صرف سافٹ ویئر نہیں بلکہ ہارڈ ویئر کی صلاحیت ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو رواں دواں رکھنے کے لیے جس کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت ہوتی ہے، اس پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ کمپنیوں کی توجہ اب ڈیٹا سینٹرز، جدید ترین پروسیسرز اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہے۔ اگرچہ ماڈلز کی تربیت (training) ایک مہنگا عمل ہے، لیکن ان کو مسلسل فعال رکھنے اور ان سے نتائج حاصل کرنے کے لیے درکار بیک اینڈ سسٹم اصل اخراجات کا سب سے بڑا مرکز بن کر ابھرے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی آنے والے سالوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملازمتوں کے مواقع کو بھی بدل کر رکھ دے گی۔
ایپیکس انسٹیٹیوٹ کی اس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت میں کیریئر کے مواقع اب صرف 'اے آئی ماڈلنگ' تک محدود نہیں رہیں گے۔ چونکہ اخراجات کا بڑا حصہ بنیادی انفراسٹرکچر اور کمپیوٹنگ سسٹم کی طرف منتقل ہو رہا ہے، اس لیے انفراسٹرکچر انجینئرز، ڈیٹا مینجمنٹ ماہرین اور ہارڈ ویئر ڈیزائنرز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل صرف الگورتھمز میں نہیں، بلکہ ان الگورتھمز کو چلانے والی مضبوط اور پیچیدہ مشینری میں پوشیدہ ہے۔
آخر میں، یہ رپورٹ کاروباری اداروں کو یہ مشورہ دیتی ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کرتے وقت صرف جدید ترین ماڈلز کے پیچھے نہ بھاگیں، بلکہ اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر بھی توجہ دیں۔ سال 2026 تک کامیابی کا انحصار اسی بات پر ہوگا کہ کون سی کمپنی اپنے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ ایپیکس انسٹیٹیوٹ کی یہ رپورٹ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے رجحانات کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔