World
جاپان کا زلزلہ اور تیاری کا کلچر: جانی نقصان سے بچاؤ کی کہانی
جاپان میں حالیہ شدید زلزلے کے بعد حفاظتی اقدامات اور تیاری کے کلچر کی بدولت بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچنے میں مدد ملی ہے۔ تاہم، اس قدرتی آفت کے نتیجے میں متعدد صنعتی ادارے اور کاروباری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل ہو گئی ہیں۔
جاپان میں حالیہ دنوں آنے والے ایک طاقتور زلزلے کے بعد وہاں کی عوام اور حکومت کی طرف سے کیے جانے والے حفاظتی انتظامات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ آفت سے پہلے کی تیاری کس طرح قیمتی انسانی جانیں بچا سکتی ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں جنوب مغربی جاپان میں اموات کی تعداد بڑھ کر 35 تک پہنچ گئی ہے، لیکن ملک میں موجود حفاظتی ڈھانچے اور بیداری کی لہر نے اس المیے کو مزید بڑا ہونے سے روک لیا ہے۔ زلزلے کے جھٹکوں کے دوران شہریوں کی طرف سے فوری اور منظم ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ جاپانی معاشرہ کس قدر احتیاطی تدابیر سے لیس ہے۔ زلزلے کے ان ہولناک جھٹکوں کے اثرات صرف عام زندگی تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کا دائرہ کار معیشت کے اہم شعبوں تک بھی پھیل گیا۔ جاپان کی معروف آٹوموبائل کمپنیاں بشمول ٹویوٹا، لکسس، مٹسوبشی، نسان اور ہنڈندا نے اپنی پیداواری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ اہم پرزہ جات فراہم کرنے والے ادارے بھی فیکٹریوں کو دوبارہ فعال کرنے کی دوڑ میں مصروف ہیں تاکہ سپلائی چین کو جلد از جلد بحال کیا جا سکے۔ دوسری طرف، قدرتی آفات کے دوران معجزاتی بچت کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایک ایسے ہی واقعے میں زلزلے سے متاثرہ ایک شاپنگ مال میں پھنس جانے والی پچیس بلیاں بحفاظت نکال لی گئیں، جنہیں دیکھ کر متعلقہ افراد نے شدید سکون کا سانس لیا۔ جاپانی عوام کی یہ ہمت، نظم و ضبط اور زلزلہ پروف تعمیراتی اصول دنیا بھر کے لیے ایک بہترین مثال بن چکے ہیں، جو یہ سکھاتے ہیں کہ قدرتی آفات کو تو روکا نہیں جا سکتا لیکن ان کے خلاف تیاری کے ذریعے نقصانات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔