Business
ٹرمپ کی تجارتی پالیسیاں اور عالمی منڈیوں پر اثرات
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا اور ایران کے خلاف سخت تجارتی و اقتصادی پالیسیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا قوی امکان ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے حالیہ چند دنوں میں کیے گئے اقدامات نے عالمی معیشت اور تجارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کینیڈا کے ساتھ تجارتی تناؤ کو دوبارہ ہوا دینے اور ایران کے خلاف سخت معاشی اقدامات کے اعلانات نے عالمی منڈیوں میں ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں قیمتوں کے ایک نئے طوفان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے عام صارفین براہِ راست متاثر ہوں گے۔ کینیڈا، جو کہ امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، کے ساتھ تجارتی تنازعات کا مطلب سپلائی چین میں خلل اور اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ امریکی مویشیوں کے نمائندوں نے بھی ان پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ سرحد پار تجارت میں رکاوٹیں گوشت اور دیگر زرعی مصنوعات کی لاگت میں نمایاں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ دوسری جانب، ایران کے خلاف 'اکنامک ڈی ڈے' کا اعلان تہران اور واشنگٹن کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی لائے گا، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں پر پڑیں گے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ ایران پر نئی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ سے عالمی سطح پر خام تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ یہ صورتحال ان ممالک کے لیے خاص طور پر پریشان کن ہے جو توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ تجارتی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اختیار کردہ یہ 'امریکہ فرسٹ' پالیسی دیگر ممالک کو بھی جوابی اقدامات پر مجبور کر سکتی ہے، جس سے ایک عالمی تجارتی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس قسم کی تجارتی جنگیں تاریخ میں ہمیشہ مہنگائی کا باعث بنی ہیں اور موجودہ دور میں، جب دنیا پہلے ہی افراطِ زر کے دباؤ سے نمٹ رہی ہے، یہ پیش رفت عالمی اقتصادی بحالی کے عمل کو سست کر سکتی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے اب ان پالیسیوں کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جبکہ سٹاک مارکیٹس میں بھی اتار چڑھاؤ کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہے اور وہ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ آنے والے ہفتے عالمی تجارت اور سیاسی تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے کہ آیا یہ تناؤ کم ہوتا ہے یا دنیا ایک طویل معاشی کشمکش کی جانب بڑھ رہی ہے۔