World
امریکی پابندیاں: ایران کے خلاف 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' شروع
امریکی انتظامیہ نے ایران کو عالمی معیشت سے مزید الگ تھلگ کرنے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے 60 سے زائد افراد اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف ایک نئی اور وسیع تر حکمت عملی کا اعلان کیا ہے جسے 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' کا نام دیا گیا ہے۔ اس آپریشن کا بنیادی مقصد ایران کو عالمی معاشی نظام سے مزید دور کرنا اور اس کی مالیاتی تنہائی کو یقینی بنانا ہے۔ امریکی ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کے روز ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران ان اقدامات کی تفصیلات جاری کیں، جس میں ایران سے منسلک 60 سے زائد افراد، بین الاقوامی کمپنیوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ اقدام موجودہ امریکی انتظامیہ کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نئی پابندیوں کے تحت ان کمپنیوں اور افراد کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں جو مبینہ طور پر ایرانی حکومت کی جانب سے غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں یا جوہری پروگرام کی معاونت میں ملوث ہیں۔ ٹریژری سیکریٹری کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ عالمی مالیاتی نظام کا غلط استعمال نہ ہو اور ایران اپنی معاشی ضروریات کے لیے درکار وسائل تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پابندیاں صرف ایک آغاز ہیں اور آنے والے دنوں میں ان نیٹ ورکس کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی جو ایران کو بین الاقوامی اقتصادی دباؤ سے نکالنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' مشرق وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ایران نے ماضی میں ایسی پابندیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں 'معاشی دہشت گردی' قرار دیا ہے، تاہم واشنگٹن اپنی اس سخت گیر پالیسی پر ثابت قدم نظر آتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان پابندیوں سے ایران کی معیشت پر مزید دباؤ بڑھے گا اور اسے میز میزائل پروگرام اور خطے میں مداخلت جیسے معاملات پر مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد ملے گی۔
عالمی سطح پر اس پیش رفت نے مارکیٹوں اور تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ اس سے عالمی توانائی کی فراہمی اور بحری تجارت پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ فی الحال، ایران کی جانب سے اس نئی پابندیوں کے پیکج پر کوئی باقاعدہ جوابی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن بین الاقوامی مبصرین اس صورتحال کو انتہائی حساس قرار دے رہے ہیں اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔