LIVE
Loading Breaking News...

ایران پر امریکی پابندیاں: وسط مدتی انتخابات کے بعد کیا ہوگا؟

News Image
امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر عائد ثانوی پابندیوں کو وسط مدتی انتخابات کے بعد تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے خطے کی جغرافیائی سیاست اور ایران کی معاشی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، امریکی انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے وسط مدتی انتخابات کے مکمل ہونے تک ایران پر عائد ثانوی اقتصادی پابندیوں کو برقرار رکھے گی۔ اس پیش رفت کو ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید سرد مہری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ واشنگٹن فی الحال داخلی سیاسی دباؤ اور انتخابات کے پیش نظر ایران کے معاملے پر کسی بھی قسم کی نرمی دکھانے سے گریزاں ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی پالیسی تبدیلی کے نتائج انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ پابندیاں نہ صرف تہران کی معاشی سرگرمیوں کو محدود کر رہی ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ ثانوی پابندیوں کا مطلب ہے کہ جو بھی ملک یا ادارہ ایران کے ساتھ مخصوص شعبوں میں لین دین کرے گا، اسے امریکی مالیاتی نظام تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس پالیسی کی وجہ سے ایران کی برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ برقرار ہے، جس کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ جغرافیائی سیاسی اعتبار سے یہ صورتحال مشرق وسطیٰ کے خطے کے لیے اہم ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کی بندش اور پابندیوں کا تسلسل خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکی خارجہ پالیسی میں کیا تبدیلی آئے گی، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے، تاہم فی الحال وائٹ ہاؤس اپنی موجودہ حکمت عملی پر قائم رہنے کو ہی ترجیح دے رہا ہے۔ آئندہ کے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا انتخابات کے بعد امریکا ایران کے ساتھ کسی نئے ڈائیلاگ کا آغاز کرتا ہے یا پھر یہی سخت گیر مؤقف جاری رہے گا۔ تہران کی جانب سے بھی مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پابندیاں ختم کی جائیں تاکہ جوہری معاہدے کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکے۔ تاہم، امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کی جانب سے پیشگی اقدامات ضروری ہیں۔ فی الحال، دنیا کی نظریں ان انتخابات کے نتائج اور اس کے بعد واشنگٹن کی ایران کے حوالے سے نئی پالیسی پر جمی ہوئی ہیں۔