LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ بمقابلہ چین: ڈومینیکن ریپبلک میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر سفارتی کشیدگی

News Image
بیجنگ نے ڈومینیکن ریپبلک میں چینی ٹیکنالوجی کے سیکورٹی خطرات سے متعلق امریکی بیان کو توہین آمیز اور پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ چینی سفارت خانے نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لیے جھوٹے الزامات پھیلا رہا ہے۔
چین اور امریکہ کے درمیان جاری تکنیکی اور سفارتی رسہ کشی میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب بیجنگ نے ڈومینیکن ریپبلک میں چینی ٹیکنالوجی کے ممکنہ سیکورٹی خطرات سے متعلق امریکی انتباہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ ڈومینیکن ریپبلک میں قائم چینی سفارت خانے نے اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں امریکی سفارت خانے پر الزام عائد کیا کہ وہ بیجنگ کے خلاف توہین آمیز اور گمراہ کن بیانات پھیلا کر دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب امریکی حکام نے ڈومینیکن ریپبلک کی حکومت کو خبردار کیا کہ چینی ٹیکنالوجی کے استعمال سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور جاسوسی کا خدشہ موجود ہے۔ چینی سفارت خانے کا موقف ہے کہ امریکہ کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات کسی بھی ٹھوس ثبوت سے عاری ہیں اور ان کا واحد مقصد لاطینی امریکہ میں چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور تکنیکی اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔ بیجنگ نے اپنے بیان میں کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ٹیکنالوجی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ دیگر ممالک کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کر دیں۔ چینی حکام کے مطابق، امریکہ کا یہ رویہ بین الاقوامی تجارتی اصولوں کے منافی ہے اور یہ عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں غیر منصفانہ مسابقت کو فروغ دے رہا ہے۔ دوسری جانب، امریکی حکام کا مسلسل یہ اصرار ہے کہ چینی ساختہ ٹیلی کمیونیکیشن آلات اور دیگر تکنیکی انفراسٹرکچر حساس ڈیٹا تک رسائی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی انتباہ میں کہا گیا کہ کسی بھی ملک کو اپنی ڈیجیٹل خودمختاری اور قومی سلامتی کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔ ڈومینیکن ریپبلک نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، تاہم اس سفارتی دباؤ نے خطے میں موجود دیگر ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی اب صرف تجارت کا نہیں بلکہ عالمی سیاست اور جاسوسی کی جنگ کا ایک اہم میدان بن چکی ہے۔ مستقبل میں اس تنازع کے کیا اثرات ہوں گے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے، تاہم اس قسم کی سفارتی تلخیوں سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تکنیکی بالادستی کی جنگ اب دنیا کے ہر کونے تک پہنچ چکی ہے۔ ڈومینیکن ریپبلک جیسی چھوٹی معیشتوں کے لیے اب یہ ایک چیلنج بن چکا ہے کہ وہ کس طرح دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھیں۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تکنیکی معیار اور شفافیت پر یقین رکھتا ہے، جبکہ امریکہ اپنے تحفظات پر قائم رہتے ہوئے اتحادیوں کو چینی اثرات سے دور رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔