LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا جوہری ری ایکٹر اور چین پر انحصار: ایک اہم بحران

News Image
امریکہ کے نئے جوہری ری ایکٹر EAGL-1 کے لیے بسمتھ کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ عالمی سطح پر اس دھات کی پیداوار کا 82 فیصد حصہ چین کے قبضے میں ہے۔ انیس سو ستانوے میں امریکہ میں بسمتھ کی آخری ریفائنری بند ہونے کے بعد سے اب واشنگٹن اپنی سپلائی چین کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکہ کے جوہری توانائی کے مستقبل کے منصوبے EAGL-1 کو اس وقت ایک غیر متوقع سپلائی چین بحران کا سامنا ہے، جس کی جڑیں تقریباً تین دہائیوں پرانی تاریخ سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ جوہری ری ایکٹر، جو 240 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اپنی ٹھنڈک برقرار رکھنے کے لیے مائع لیڈ-بسمتھ (liquid lead-bismuth) کے کولنٹ پر انحصار کرتا ہے۔ تاہم، یہ اہم دھات اب امریکہ کے لیے ایک تزویراتی کمزوری بن کر ابھری ہے کیونکہ سن 1997 میں امریکہ میں بسمتھ کو ریفائن کرنے والی آخری تنصیب بند کر دی گئی تھی، جس کے بعد سے امریکی صنعت مکمل طور پر درآمدات پر انحصار کر رہی ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، عالمی سطح پر بسمتھ کی کل پیداوار کا 82 فیصد سے زائد حصہ چین کے کنٹرول میں ہے، جس نے امریکی دفاعی اور توانائی کے ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اپنی جوہری صلاحیتوں کو جدید بنانے اور خود کفیل بننے کے لیے کوشاں ہے، اہم مواد کی فراہمی کے لیے چین پر انحصار ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ 'فرسٹ امریکن نیوکلیئر' جیسی کمپنیاں نہ صرف اس نئے ری ایکٹر پر کام کر رہی ہیں بلکہ یورینیم ایندھن کی تیاری کے لیے بھی تنصیبات تعمیر کر رہی ہیں، مگر خام مال کی کمی ان منصوبوں کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کو اپنے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (SMRs) کے اہداف حاصل کرنے ہیں تو اسے بسمتھ کی مقامی پیداوار کو دوبارہ شروع کرنے یا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر محفوظ سپلائی چین بنانے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ چین کی جانب سے معدنیات کی برآمدات پر سخت ضوابط کے پیش نظر امریکہ اب اس بات پر غور کر رہا ہے کہ کس طرح ان اہم مواد کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل کے صاف توانائی کے منصوبے کسی بیرونی دباؤ یا سپلائی کے تعطل کا شکار نہ ہوں۔ اس صورتحال نے واشنگٹن میں پالیسی سازوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا امریکہ اپنی صنعتی خود مختاری کو بحال کرنے کے لیے درکار سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر قائم کرنے میں کامیاب ہو سکے گا یا نہیں۔