World
ایران پر نئی امریکی پابندیاں: چینی بینکوں کو فی الحال استثنیٰ
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف اپنی معاشی مہم کو تیز کرتے ہوئے نئی ثانوی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ایرانی معیشت کو تنہا کرنا ہے تاہم بڑے چینی بینکوں کو اس دائرہ کار سے فی الحال باہر رکھا گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں ایران کے خلاف اپنی 'اکنامک ڈی ڈے' مہم کے تحت نئی تفصیلات جاری کی ہیں، جس کا مقصد تہران پر دباؤ کو مزید بڑھانا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کے تحت ثانوی پابندیوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے ان تمام غیر ملکی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات برقرار رکھتے ہیں تو انہیں امریکی مالیاتی نظام سے خارج کر دیا جائے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران کی ایٹمی سرگرمیوں اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
اس نئی پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امریکہ نے چین کے بڑے بینکوں کو براہ راست ہدف بنانے سے گریز کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ واشنگٹن فی الحال بیجنگ کے ساتھ ایک بڑی تجارتی جنگ سے بچنا چاہتا ہے، اس لیے چینی مالیاتی اداروں کو پابندیوں کے اس سخت دائرہ کار سے وقتی طور پر باہر رکھا گیا ہے۔ یہ حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ ایران کے گرد گھیرا تو تنگ کرنا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات اور چین کے ساتھ اپنے پیچیدہ تعلقات کو بھی مدنظر رکھ رہا ہے۔
تہران نے ان پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور انہیں 'معاشی دہشت گردی' کا نام دیا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ یہ پابندیاں عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور اس سے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ تہران اپنی معیشت کو بچانے کے لیے اب مختلف متبادل راستوں اور تجارتی شراکت داروں کی تلاش میں ہے جو امریکی پابندیوں سے متاثر نہ ہوں۔
اس صورتحال کے پیش نظر یورپی ممالک اور ایشیائی شراکت داروں کے لیے بھی ایک مشکل صورتحال پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ انہیں امریکہ کے دباؤ اور ایران کے ساتھ اپنے تجارتی مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ نئی پابندیاں ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا پھر خطے میں معاشی اور سیاسی بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے۔