LIVE
Loading Breaking News...

ہری پور میں پانچ سالہ بچی کا قتل، انصاف کے لیے آواز بلند

News Image
خیبر پختونخوا کے علاقے ہری پور میں لاپتہ ہونے والی پانچ سالہ بچی آیات نور کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے جبکہ حکومتی سطح پر بھی سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں پانچ سالہ بچی آیات نور کی لاش برآمد ہونے کے بعد پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق، بچی کچھ روز قبل لاپتہ ہو گئی تھی جس کی بازیابی کے لیے تلاش جاری تھی، تاہم افسوسناک طور پر اس کی لاش ملنے کے بعد یہ تصدیق ہوئی کہ اسے اغوا کے بعد بہیمانہ تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس واقعے نے سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طبی رپورٹ اور شواہد کی روشنی میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ علاقے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور مقامی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مجرمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ دوسری جانب قومی اسمبلی کے اراکین نے بھی ایوان میں اس مسئلے کو اٹھایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے خلاف ہونے والے ان جرائم کے سدباب کے لیے سخت ترین قانون سازی کی جائے۔ سول سوسائٹی اور مقامی کمیونٹی کی جانب سے بھی انصاف کے حصول کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں، جن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آیات نور کیس کو فوری طور پر انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کا بار بار پیش آنا معاشرے کی اخلاقی گراوٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے۔ فی الحال تفتیشی ٹیمیں فرانزک شواہد اکٹھا کر رہی ہیں اور علاقے کے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مشکوک افراد کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ہری پور کے عوام نے حکومتی ایوانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کو ایک مثال بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور معصوم بچی کو ایسی درندگی کا نشانہ نہ بننا پڑے۔ تحقیقاتی عمل کی پیش رفت پر نظر رکھی جا رہی ہے اور پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس کوئی بھی اہم معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں۔