LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں ICE کا بڑا آپریشن، 1300 سے زائد تارکین وطن گرفتار

News Image
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے ورجینیا اور میری لینڈ میں ایک بڑے آپریشن کے دوران 1300 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی اور دیگر قانونی وجوہات کی بنا پر عمل میں لائی گئی ہیں۔
امریکہ کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے حکام نے ریاست ورجینیا اور میری لینڈ میں ایک بڑے پیمانے پر آپریشن کرتے ہوئے 1300 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی امیگریشن قوانین کے نفاذ اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی نشاندہی کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ گرفتاریاں ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہیں جن کا مقصد سرحدی سیکیورٹی اور ملکی امیگریشن قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔ اس آپریشن کے دوران گرفتار کیے جانے والے افراد کی حتمی شناخت اور قانونی حیثیت کے حوالے سے مزید چھان بین کا عمل جاری ہے۔ ICE کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان کو امیگریشن کے متعلقہ مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کے کیسز کی انفرادی طور پر سماعت ہوگی۔ ان افراد میں سے بہت سے ایسے ہیں جن پر پہلے سے ہی ڈیپورٹیشن (وطن واپسی) کے وارنٹ جاری تھے یا وہ ویزا شرائط کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث پائے گئے تھے۔ مقامی قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بڑی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں گرفتاریاں کمیونٹیز کے اندر خوف و ہراس کا باعث بن رہی ہیں، خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جن کے پیارے اس کریک ڈاؤن کا شکار ہوئے ہیں۔ تاہم، وفاقی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات قانون کی حکمرانی کو بحال رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں اور ان کا مقصد صرف ان افراد کو ہدف بنانا ہے جو غیر قانونی طور پر امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس آپریشن کے مزید اثرات سامنے آنے کی توقع ہے، کیونکہ متاثرین کے قانونی نمائندے عدالتوں سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ امیگریشن کے قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان افراد کے پاس مناسب قانونی دستاویزات یا پناہ کے جائز اسباب موجود نہیں ہیں، تو انہیں جلد ہی ملک بدر کیے جانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فی الحال، ICE کی جانب سے دونوں ریاستوں میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات برقرار ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ احتجاج یا بدامنی کو روکا جا سکے۔