LIVE
Loading Breaking News...

پنسلوانیا میں خسرہ کا حملہ: ویکسین نہ لگوانے والے دو افراد انتقال کر گئے

News Image
امریکہ کی ریاست پنسلوانیا میں خسرہ کے وائرس سے دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جنہیں ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ویکسینیشن کی شرح میں کمی خطرناک امراض کی واپسی کا باعث بن رہی ہے۔
امریکہ کی ریاست پنسلوانیا میں خسرہ (Measles) کے مہلک وائرس کے باعث دو افراد کی ہلاکت نے صحت عامہ کے حکام اور ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ دونوں افراد ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے خسرہ سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکے یا ویکسینیشن نہیں کروائی تھی۔ اس المناک واقعے کے بعد طبی ماہرین نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ویکسینیشن کی شرح میں مسلسل گراوٹ ایک بار پھر ان بیماریوں کے سر اٹھانے کا سبب بن رہی ہے جنہیں کئی دہائیاں قبل بڑی حد تک قابو میں کر لیا گیا تھا۔ طبی ماہرین کے مطابق خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے جن کی قوت مدافعت کمزور ہو یا جنہوں نے حفاظتی ویکسین نہ لگوائی ہو۔ پنسلوانیا میں ہونے والی حالیہ اموات نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ ویکسینیشن کے حوالے سے پھیلی ہوئی غلط فہمیوں اور کوتاہیوں کے نقصانات کتنے سنگین ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمیونٹی امیونٹی یعنی اجتماعی قوت مدافعت کو برقرار رکھنے کے لیے ویکسینیشن کی شرح کا ایک مخصوص سطح پر ہونا ناگزیر ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس شرح میں کمی دیکھی جا رہی ہے جو مستقبل میں مزید وبائی امراض کے پھیلنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ صحت کے عالمی اداروں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کو خسرہ سمیت دیگر قابلِ انسداد بیماریوں کے حفاظتی ٹیکے بروقت لگوائیں۔ حکام نے پنسلوانیا کے رہائشیوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ خسرہ کی علامات، جیسے تیز بخار، کھانسی، اور جلد پر سرخ دھبوں پر کڑی نظر رکھیں اور ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رابطہ کریں۔ پنسلوانیا کا محکمہ صحت اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس بیماری کا پھیلاؤ کن ذرائع سے شروع ہوا اور مزید لوگوں کو متاثر ہونے سے کیسے بچایا جا سکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ویکسینیشن کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے اور خسرہ جیسے قابلِ روک تھام امراض سے ہونے والی ہلاکتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ویکسین سے دوری کس قدر مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال ایک انتباہ ہے کہ صحت عامہ کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ویکسینیشن کے قومی پروگراموں کی مکمل حمایت اور پیروی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔