World
فلسطینی نژاد امریکی شہری پر اپنی زمین پر داخلے پر پابندی
مغربی کنارے کے گاؤں قصرہ میں اسرائیلی قابض فورسز نے ایک فلسطینی نژاد امریکی شہری لو ریڈی کو ان کی اپنی زمین پر جانے سے روک دیا۔ مقامی طور پر یہ واقعہ فلسطینیوں کے حقوق کی سنگین پامالی اور آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی جارحیت کی ایک اور مثال ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں قصرہ سے ایک افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں اسرائیلی قابض فورسز نے ایک فلسطینی نژاد امریکی شہری لو ریڈی (Lou Ridi) کو ان کی اپنی ذاتی ملکیت والی زمین پر داخل ہونے اور چلنے پھرنے سے روک دیا ہے۔ اس واقعے نے علاقے میں جاری کشیدگی اور فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے ایک بار پھر عالمی سطح پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ لو ریڈی جو کہ امریکی شہریت کے حامل ہیں، جب اپنی آبائی زمین پر پہنچے تو وہاں موجود اسرائیلی فوج نے انہیں آگے بڑھنے سے منع کر دیا، جس کے بعد انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق اس علاقے کی صورتحال انتہائی غیر منصفانہ ہے کیونکہ ایک طرف تو فلسطینی شہریوں کو ان کی اپنی زرعی اور ذاتی زمینوں پر جانے سے روکا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کو اسی علاقے میں کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ یہ آباد کار نہ صرف بلا روک ٹوک ان زمینوں پر گھوم پھر رہے ہیں بلکہ اکثر و بیشتر مقامی فلسطینیوں کے لیے مشکلات اور تشدد کا باعث بھی بنتے ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے اپنائی گئی یہ امتیازی پالیسی فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
اس واقعے نے بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر امریکی حکومت کے لیے ایک سنگین سفارتی چیلنج کھڑا کر دیا ہے، کیونکہ متاثرہ شخص خود امریکی شہری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور شہری حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد فلسطینیوں میں خوف و ہراس پھیلانا اور انہیں ان کے اپنے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے۔
واضح رہے کہ قصرہ اور گردونواح کے علاقوں میں طویل عرصے سے اسرائیلی آباد کاروں اور مقامی فلسطینیوں کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔ آئے دن پیش آنے والے یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کی زندگی کس قدر دشوار بنا دی گئی ہے۔ فی الحال لو ریڈی کی جانب سے اس واقعے کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور امریکی سفارت خانے سے مدد کے حصول کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم زمین پر زمینی حقائق تاحال فلسطینیوں کے لیے انتہائی مشکل ہیں۔