LIVE
Loading Breaking News...

آسٹریلیا میں ونڈ انرجی کے منصوبے تعطل کا شکار کیوں؟

News Image
آسٹریلیا کا 82 فیصد قابل تجدید توانائی کے حصول کا ہدف ونڈ انرجی کے منصوبوں میں درپیش رکاوٹوں کی وجہ سے خطرے میں پڑ گیا ہے۔ حکومتی پالیسیوں اور سپلائی چین کے مسائل کے باعث بڑے منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔
آسٹریلیا میں توانائی کے شعبے کے لیے مقرر کردہ اہم اہداف اس وقت شدید بحران اور تعطل کی زد میں آ چکے ہیں۔ سن 2023 کے وسط میں حکومتی سطح پر یہ عزم ظاہر کیا گیا تھا کہ ملک اپنی بجلی کی ضروریات کا 82 فیصد قابلِ تجدید ذرائع، خاص طور پر ونڈ انرجی سے پورا کرے گا۔ تاہم، اب زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ منصوبہ اپنی رفتار کھو چکا ہے اور ونڈ انرجی کے پراجیکٹس میں پیش آنے والی مشکلات حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سازوسامان کی فراہمی میں تاخیر اور بڑھتی ہوئی لاگت نے ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں بڑی دیوار کھڑی کر دی ہے۔ اس صورتحال کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں جن میں عالمی سپلائی چین کا متاثر ہونا اور ونڈ ٹربائنز کی تنصیب میں درپیش تکنیکی مسائل سرِفہرست ہیں۔ حکومتی سطح پر توانائی کی پالیسیوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے سوالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وقت پر اہداف کا حصول اب ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔ مقامی سطح پر کمیونٹیز کی طرف سے ان منصوبوں کے لیے زمینوں کے حصول میں مزاحمت اور ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے تحفظات نے بھی پراجیکٹس کی تکمیل کو سست کر دیا ہے۔ ان رکاوٹوں نے سرمایہ کاروں میں بھی ایک بے یقینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے جس کی وجہ سے نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ توانائی کے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر پالیسیوں میں اصلاحات نہ کیں اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر درپیش تکنیکی مشکلات کا حل نہ نکالا، تو آسٹریلیا کا موسمیاتی اہداف حاصل کرنے کا خواب ادھورا رہ سکتا ہے۔ ونڈ انرجی کے شعبے میں جاری یہ بحران نہ صرف توانائی کے مستقبل کو متاثر کر رہا ہے بلکہ اس کے اثرات ملکی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے کیے گئے دعوے اب حقیقت پسندی کے تقاضے کر رہے ہیں، اور عوام کی جانب سے بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور لوڈشیڈنگ کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر حکومت پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں ان منصوبوں کی بحالی کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔