LIVE
Loading Breaking News...

چین کا 119 ارب ڈالر کا نیا اقتصادی پیکج: بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی پر توجہ

News Image
چین نے بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو فروغ دینے کے لیے 119 ارب ڈالر کا نیا پالیسی فنانسنگ ٹول متعارف کروا دیا ہے۔ اس اقدام سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی توقع ہے تاہم ماہرین کی جانب سے پروجیکٹس میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
چین نے اپنی معیشت کو مزید مستحکم کرنے اور بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک بڑے پالیسی فنانسنگ ٹول کا آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے لیے 119 ارب ڈالر کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک بھر میں جاری ترقیاتی کاموں، ٹیکنالوجی کے شعبے اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے درکار فنڈز کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کی جانب سے پروجیکٹ درخواستوں کا عمل شروع ہونے کے بعد، اب مختلف سرکاری اور نجی ادارے اپنے منصوبوں کے لیے فنڈنگ کی درخواستیں جمع کروا رہے ہیں۔ یہ اقدام چینی حکومت کی جانب سے معاشی نمو کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ یہ پالیسی فنانسنگ ٹول نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدت لائے گا بلکہ تعمیراتی صنعت میں بھی نئی روح پھونکے گا۔ تاہم، اس حکومتی اقدام کے حوالے سے کچھ چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ فنڈز کی فراہمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے، لیکن منصوبوں کی منظوری اور ان پر عمل درآمد کے مراحل میں ممکنہ تاخیر معاشی اثرات کو محدود کر سکتی ہے۔ چین کی موجودہ معاشی صورتحال میں اس قسم کے بڑے فنانسنگ ٹولز کی بہت اہمیت ہے، لیکن ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فنڈز کی منتقلی کتنی شفاف اور تیز رفتار ہوتی ہے۔ اگر بیوروکریٹک رکاوٹوں کی وجہ سے منصوبے بروقت شروع نہ ہو سکے تو ان کے معاشی اثرات کا فائدہ فوری طور پر ظاہر ہونے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، اس پروگرام کے تحت ترجیح ان منصوبوں کو دی جائے گی جو ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری پیدا کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی پائیداری میں معاون ثابت ہوں۔ اس پالیسی کا ایک اہم مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور عالمی سطح پر چینی مصنوعات کی مسابقت کو بڑھانا ہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ فنڈز کا استعمال درست سمت میں ہو اور طویل مدتی اقتصادی اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ اگرچہ معاشی ماہرین محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں، لیکن مجموعی طور پر اس 119 ارب ڈالر کے پیکیج کو چینی معیشت کے لیے ایک بڑا سہارا قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں مزید سرمایہ کاری کے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔