Entertainment
متھیرا کا بیان: معاشرے نے مردوں کو جذبات دبا کر مشین بنا دیا
معروف پاکستانی ماڈل اور میزبان متھیرا کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرتی رویوں نے مردوں کے جذبات کا گلا گھونٹ کر انہیں مشینی انسان بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مردوں کو بھی کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی آزادی دی جانی چاہئے۔
معروف پاکستانی ٹیلی ویژن ہوسٹ اور ماڈل متھیرا نے حال ہی میں معاشرتی رویوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے نے مردوں کے جذبات کو دبا دبا کر انہیں بے حس اور 'مشین' کی طرح بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچپن سے ہی لڑکوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ رو نہیں سکتے یا کمزور نہیں پڑ سکتے، جس کا براہ راست اثر ان کی ذہنی صحت پر پڑتا ہے۔ متھیرا کے مطابق اس طرح کی روایتی سوچ مردوں کو اپنے اندرونی احساسات کو چھپانے پر مجبور کرتی ہے، جو آگے چل کر سنگین ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی مسائل کا سبب بنتا ہے۔
متھیرا نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے کو اب اپنی اس دقیانوسی سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی۔ مردوں کو بھی ایک انسان سمجھنا چاہیے جنہیں غصہ، خوشی، خوف اور اداسی جیسے تمام جذبات محسوس کرنے اور ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب معاشرہ مردوں پر یہ جبر کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ مضبوط اور پتھر دل نظر آئیں، تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں مگر کسی کے سامنے اپنے دل کا حال بیان نہیں کر پاتے۔ اس رویے کی وجہ سے بہت سے مرد ڈپریشن اور اکیلے پن کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ مدد مانگنے سے کتراتے ہیں۔
شوبز شخصیت کا یہ بیان سوشل میڈیا پر بھی کافی زیر بحث ہے اور لوگ اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ بہت سے صارفین نے متھیرا کی اس بات کی حمایت کی ہے کہ مردوں کی ذہنی صحت اور ان کے جذبات کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی جتنی کہ خواتین کی جاتی ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا بھی طویل عرصے سے یہی مؤقف رہا ہے کہ صنفی دقیانوسی تصورات سے ہٹ کر تمام انسانوں کو اپنے جذبات کے اظہار کی آزادی ہونی چاہیے تاکہ ایک صحت مند اور توازن سے بھرپور معاشرہ تشکیل پا سکے۔