Technology
پرسنلائزڈ پرائسنگ پر ایف ٹی سی کی نئی سخت پالیسی کا اعلان
فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے صارفین کے ڈیٹا کا استعمال کرکے قیمتیں طے کرنے والے ریٹیلرز کے لیے نئی سخت ہدایات جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مارکیٹ میں شفافیت لانا اور صارفین کی پرائیویسی کو ڈیجیٹل نگرانی سے محفوظ بنانا ہے۔
امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) نے ریٹیلرز اور ای کامرس کمپنیوں کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اب کمپنیوں کو یہ ظاہر کرنا لازمی ہوگا کہ آیا وہ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے کسی مخصوص فرد کے لیے قیمتیں متعین کر رہی ہیں یا نہیں۔ یہ اقدام جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں اٹھایا گیا ہے جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیٹا اینالیٹکس کی مدد سے کمپنیاں ہر صارف کی خریداری کی عادات اور مالی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے الگ الگ قیمتیں مقرر کر رہی ہیں۔ ایف ٹی سی کا ماننا ہے کہ 'پرسنلائزڈ پرائسنگ' کا یہ رجحان صارفین کے ساتھ ایک طرح کی امتیازی سلوک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، جدید ٹیکنالوجی نے خوردہ فروشوں کو یہ طاقت دے دی ہے کہ وہ نگرانی کے ذریعے یہ جان سکیں کہ کون سا صارف اپنی پسندیدہ چیز کے لیے کتنی قیمت ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے ڈیٹا بیسڈ فیصلے اکثر صارفین کے لیے مہنگے ثابت ہوتے ہیں کیونکہ انہیں ان کی ضرورت اور استطاعت کے لحاظ سے ہدف بنایا جاتا ہے۔ فیڈرل ٹریڈ کمیشن اب ان تجارتی طریقوں کو مزید شفاف بنانا چاہتا ہے تاکہ صارفین کو آگاہی ہو سکے کہ ان کے ساتھ کیے جانے والے سودے میں کوئی خفیہ الگورتھم تو اثر انداز نہیں ہو رہا۔
اس پالیسی کی تبدیلی سے ریٹیل سیکٹر میں ایک بڑی ہلچل متوقع ہے۔ انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شفافیت کے اصولوں پر عمل درآمد کے بعد کمپنیوں کو اپنے الگورتھم کے حوالے سے جوابدہ ہونا پڑے گا، جو کہ اب تک کمپنیوں کے لیے ایک خفیہ تجارتی راز کی حیثیت رکھتا تھا۔ اگرچہ کمپنیاں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ بہتر کسٹمر سروس کے لیے ڈیٹا کا استعمال کر رہی ہیں، لیکن ایف ٹی سی کا یہ سخت موقف ظاہر کرتا ہے کہ صارف کی پرائیویسی اور معاشی حقوق کو تجارتی مفادات پر فوقیت دی جائے گی۔
آنے والے وقتوں میں، یہ توقع کی جا رہی ہے کہ دیگر عالمی ادارے بھی ایف ٹی سی کے اس اقدام کی پیروی کریں گے تاکہ ڈیجیٹل دنیا میں ہونے والی قیمتوں کی ہیرا پھیری کو روکا جا سکے۔ صارفین کے لیے یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے کیونکہ اس سے شفاف تجارت کو فروغ ملے گا اور کمپنیاں صارفین کے ڈیٹا کو من مانی قیمتیں طے کرنے کے لیے بے دریغ استعمال نہیں کر سکیں گی۔ ایف ٹی سی کی جانب سے جاری کردہ یہ رہنما اصول مستقبل میں آن لائن شاپنگ کے تجربے کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔