World
بھارتی طلبا کا احتجاج: پیپر لیک اسکینڈل کے خلاف مظاہروں پر پولیس کا کریک ڈاؤن
بھارت میں سرکاری امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کے خلاف طلبا نے ایک بار پھر سڑکوں پر احتجاج شروع کر دیا ہے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا جس سے حالات کشیدہ ہو گئے۔
بھارت کے مختلف شہروں میں سرکاری ملازمتوں کے لیے ہونے والے امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے خلاف طلبا کا شدید احتجاج جاری ہے۔ حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران دارالحکومت اور دیگر اہم مقامات پر پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کی بوچھاڑ کی۔ طلبا تنظیموں کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کا فقدان ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے اور حکام اس سنگین مسئلے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
احتجاج کرنے والے طلبا کا مطالبہ ہے کہ امتحانات کے انعقاد کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے اور پرچے لیک کرنے والے مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ طلبا کا یہ بھی کہنا ہے کہ بار بار پیپرز لیک ہونے سے ان کی کئی سالوں کی محنت ضائع ہو جاتی ہے اور وہ ذہنی کوفت کا شکار ہیں۔ مظاہرین نے حکومت سے شفاف تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ یہ نیٹ ورک کہاں سے کام کر رہا ہے اور اس میں کون لوگ ملوث ہیں۔
دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین اہم شاہراہوں کو بلاک کر رہے تھے جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا تھا، اسی لیے انہیں ہٹانا ضروری تھا۔ پولیس کے مطابق احتجاج کرنے والوں کی بڑی تعداد نے امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی جس کے بعد واٹر کینن کا استعمال ناگزیر ہو گیا تھا۔ تاہم، سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت کو طاقت کے استعمال کے بجائے طلبا کے جائز مطالبات کو سننے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔
ملک بھر میں اس مسئلے پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے کیونکہ لاکھوں طلبا ہر سال سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لیے ان امتحانات میں حصہ لیتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے بروقت اس مسئلے کا مستقل حل نہ نکالا تو احتجاج کا یہ سلسلہ ملک کے دیگر حصوں تک پھیل سکتا ہے جس سے تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر کا کام شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی حلقے اس حساس معاملے پر کیا ردعمل دیتے ہیں اور طلبا کو کیا ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔