Business
چینی یوآن کی قدر میں کمی، پیپلز بینک آف چائنا کا اہم فیصلہ
چین کا مرکزی بینک چینی کرنسی یوآن کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قدر کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ عالمی مالیاتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ بینک 6.7219 کی ریفرنس شرح مقرر کرے گا۔
پیپلز بینک آف چائنا (PBOC) کی جانب سے چینی کرنسی یوآن کے لیے ریفرنس ریٹ کو 6.7219 پر مقرر کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ رائٹرز کے تخمینوں کے مطابق، مرکزی بینک کی یہ کوشش ہے کہ یوآن کی قدر میں ہونے والے تیزی سے اضافے کو کسی حد تک کنٹرول میں رکھا جائے۔ حالیہ دنوں میں یوآن کی قدر میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی تھی جس نے عالمی تجارتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا تھا، تاہم اب چین کا مرکزی بینک اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے یوآن کی قدر کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھنے کے لیے یہ ایک بڑا اقدام ہو سکتا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ چین نے یوآن کی قدر میں اضافے کو روکنے کے لیے اتنی سختی سے مداخلت کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں آسٹریلوی ڈالر سمیت کئی دیگر کرنسیوں پر بھی دباؤ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ چین کی معاشی پالیسیوں کا براہ راست اثر عالمی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔
یوآن کی قدر میں اس حالیہ تیزی نے برآمد کنندگان کے لیے مشکلات پیدا کر دی تھیں، جس کے پیش نظر چینی حکام اب زیادہ محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔ فینامائز اور دیگر مالیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، چین کا مرکزی بینک یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ وہ یوآن کی قدر میں ایک پائیدار اور سست رفتاری سے اضافہ دیکھنا چاہتا ہے، بجائے اس کے کہ کرنسی کی قدر میں یکدم غیر مستحکم اتار چڑھاؤ آئے۔ اس پالیسی کا مقصد ملکی برآمدات کو مسابقتی رکھنا اور عالمی تجارتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔
سرمایہ کار اب اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کیا یہ نئی شرح منڈیوں کے رجحان کو بدلنے میں کامیاب ہوگی یا نہیں۔ یو او بی (UOB) جیسے مالیاتی اداروں کا تجزیہ ہے کہ اگر ڈالر کے مقابلے میں یوآن کو 6.7200 کی سطح پر لایا جاتا ہے، تو یہ چینی معیشت کے لیے ایک توازن پیدا کرنے والا قدم ثابت ہوگا۔ آنے والے دنوں میں پیپلز بینک آف چائنا کے مزید اقدامات ہی یہ طے کریں گے کہ یوآن کی مستقبل کی سمت کیا ہوگی اور عالمی کرنسی مارکیٹ اس پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتی ہے۔