LIVE
Loading Breaking News...

ڈولی پارٹن کی زندگی کا مشکل سفر: غربت سے شہرت تک کی کہانی

News Image
مشہور گلوکارہ ڈولی پارٹن نے 1979 کے ایک انٹرویو میں اپنے دیہی ٹینیسی کے غربت زدہ بچپن اور جدوجہد کے دنوں کا تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے محدود وسائل کے باوجود ان کے عزم اور محنت نے انہیں عالمی شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔
عالمی شہرت یافتہ امریکی گلوکارہ اور نغمہ نگار ڈولی پارٹن کا شمار آج دنیا کی کامیاب ترین فنکاروں میں ہوتا ہے، تاہم ان کی یہ کامیابی آسان نہیں تھی۔ 1979 میں بی بی سی کو دیے گئے ایک نایاب اور یادگار انٹرویو میں انہوں نے اپنے بچپن کے ان تاریک دنوں کی نقاب کشائی کی جب ان کا خاندان شدید غربت کا شکار تھا۔ ٹینیسی کے دیہی علاقوں میں گزرنے والے اپنے ابتدائی برسوں کو یاد کرتے ہوئے ڈولی نے بتایا کہ ان کے پاس زندگی کی بنیادی ضروریات بھی بمشکل میسر تھیں۔ انہوں نے جذباتی انداز میں انکشاف کیا کہ ان کے خاندان کے پاس کاسمیٹکس خریدنے کے پیسے نہیں تھے، جس کی وجہ سے وہ اور ان کی بہنیں چہروں پر پاؤڈر کی جگہ گھر میں موجود آٹا استعمال کیا کرتی تھیں۔ ڈولی پارٹن کے مطابق یہ واقعات اس دور کے ہیں جب وہ زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے تھیں، لیکن ان کے اندر کچھ کر دکھانے کا جذبہ اور فن کی تڑپ ہمیشہ موجود رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت ان کے لیے رکاوٹ نہیں بلکہ ایک ایندھن ثابت ہوئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے والدین کے پاس وسائل کم تھے لیکن انہوں نے اپنے بچوں کو ہمت نہ ہارنے کی تعلیم دی، جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے موسیقی کی دنیا میں ایک الگ مقام بنایا۔ اس انٹرویو میں ڈولی کا انداز انتہائی سادہ اور مخلصانہ تھا، جس سے مداحوں کو یہ جاننے کا موقع ملا کہ ایک سپر اسٹار کے پیچھے ایک ایسی بچی بھی ہے جس نے غربت کے طوفانوں کا سامنا کیا ہے۔ آج جب ڈولی پارٹن کو ایک بین الاقوامی آئیکن کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تو ان کی یہ پرانی یادیں نوجوان نسل کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، اگر انسان میں مستقل مزاجی ہو تو وہ اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ ان کا وہ انٹرویو آج بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتا ہے کیونکہ لوگ ان کی اس عاجزی اور اپنے ماضی سے جڑے رہنے کے انداز کو بہت پسند کرتے ہیں۔ ڈولی پارٹن کا سفر صرف موسیقی کا سفر نہیں بلکہ یہ ایک ایسے انسان کی داستان ہے جس نے آٹے کو پاؤڈر بنا کر زندگی کے کٹھن مراحل میں بھی مسکرانے کا ہنر سیکھا۔