LIVE
Loading Breaking News...

نائجیریا میں 600 افراد کی بازیابی کے لیے اہم فوجی آپریشن شروع

News Image
نائجیرین صدر بولا احمد ٹینوبو نے 600 افراد کے اغوا کے بعد ان کی بازیابی کے لیے ایک بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے۔ حکام مغویوں کو بحفاظت گھر واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
نائجیریا کے صدر بولا احمد ٹینوبو نے ملک میں پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک اور بڑے پیمانے کے اغوا کے واقعے کے بعد 600 مغویوں کی بازیابی کے لیے ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ آپریشن منگل کے روز شروع کیا گیا جس کا بنیادی مقصد دہشت گردوں اور مسلح گروہوں کے چنگل سے سینکڑوں بے گناہ شہریوں کو بحفاظت بازیاب کروانا ہے۔ ملک بھر میں اس واقعے کے بعد شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، نائجیرین مسلح افواج کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان علاقوں کا گھیراؤ کریں جہاں ان افراد کو مبینہ طور پر رکھا گیا ہے۔ صدر ٹینوبو نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت ان تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے گی جو ملک میں امن و امان کو خراب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ ہر قیمت پر بحال کی جائے گی اور ان 600 افراد کی بازیابی موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ فوج، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں مشترکہ طور پر اس ریسکیو مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ نائجیریا طویل عرصے سے مسلح گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کے واقعات کا شکار رہا ہے۔ حالیہ واقعہ ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اغوا کے واقعات میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے جس نے ملکی سکیورٹی نظام پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ مقامی آبادی اور متاثرہ خاندانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جو اپنے پیاروں کی جلد اور محفوظ واپسی کے منتظر ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ فی الحال سکیورٹی فورسز آپریشن کے علاقوں میں پیش قدمی کر رہی ہیں تاہم مغویوں کی صحیح مقام تک رسائی کے لیے محتاط حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے تاکہ آپریشن کے دوران مغویوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں۔ آنے والے چند دنوں میں اس آپریشن کے نتائج کی توقع کی جا رہی ہے جو نائجیریا کی داخلی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا امتحان ہے۔