Technology
مایو کلینک: مصنوعی ذہانت کے طبی استعمال میں سیمولیشن کی اہمیت
مایو کلینک کی ماہر شونا اوورگارڈ کا ماننا ہے کہ اے آئی ٹولز کو کلینیکل ماحول میں لانے سے قبل سیمولیشن کے ذریعے ٹیسٹ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ طریقہ کار مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور مصنوعی ذہانت کی افادیت کو جانچنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مایو کلینک کی اے آئی سٹریٹیجی اینڈ فریم ورکس کی سینئر ڈائریکٹر شونا اوورگارڈ نے حال ہی میں طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے محفوظ اور مؤثر نفاذ کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو براہ راست مریضوں کے علاج میں استعمال کرنے سے قبل ایک تفصیلی سیمولیشن عمل سے گزارنا ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی قسم کی تکنیکی خامیوں یا نتائج میں فرق کو ختم کیا جا سکے۔ اوورگارڈ کے مطابق، مایو کلینک میں ان کی ٹیمیں ایک خصوصی سیمولیشن سینٹر کا استعمال کر رہی ہیں، جہاں 100 سے زائد تربیت یافتہ مریض مصنوعی ماحول میں اے آئی ٹولز کی کارکردگی کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔
اس عمل کی تفصیلات بتاتے ہوئے شونا اوورگارڈ نے کہا کہ 'ورک فلو شیڈونگ' کا طریقہ کار انتہائی اہم ہے۔ اس کے ذریعے طبی ماہرین یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ اے آئی سافٹ ویئر کس طرح ڈاکٹروں اور نرسوں کے روزمرہ کے کاموں میں مداخلت کرتا ہے اور آیا اس سے مریضوں کی تشخیص یا علاج میں واقعی بہتری آ رہی ہے یا نہیں۔ اس سیمولیشن عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹیکنالوجی کلینیکل سیٹنگ کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور طبی عملے کی استعدادِ کار میں اضافہ کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کی کامیابی کا انحصار صرف الگورتھم کی درستی پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ وہ حقیقی طبی ماحول میں کیسے ردعمل ظاہر کرتی ہے۔
اوورگارڈ کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک بڑا 'ترجمہ کا خلا' (Translation Gap) موجود ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ لیبارٹری میں بننے والی ٹیکنالوجی جب اصل ہسپتالوں تک پہنچتی ہے تو وہاں اس کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ سیمولیشن اس خلا کو پُر کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ ماہرین کو اس بات کا موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات کو پہلے ہی پہچان لیں۔ مایو کلینک کا یہ ماڈل دنیا بھر کے ہسپتالوں کے لیے ایک مثال ہے جو صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو ڈیجیٹل دور میں داخل کرنے کے خواہشمند ہیں۔
آخر میں، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اے آئی ٹولز کے استعمال کے دوران مریضوں کی حفاظت اور رازداری کو ہر صورت ترجیح دی جانی چاہیے۔ سیمولیشن سینٹرز نہ صرف ٹیکنالوجی کو بہتر بناتے ہیں بلکہ یہ طبی عملے کو بھی جدید آلات کے ساتھ کام کرنے کے لیے اعتماد فراہم کرتے ہیں۔ مایو کلینک کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ مستقبل کا طب مصنوعی ذہانت اور انسانی مہارت کے بہترین امتزاج سے ہی ممکن ہوگا۔