Business
امریکی محکمہ توانائی کا چھوٹے کاروباروں اور انوویشن کے لیے نیا پروگرام
امریکی محکمہ توانائی اور سمال بزنس ایڈمنسٹریشن نے ایک معاہدے کے تحت ایس بی آئی سی-ای اقدام کا آغاز کیا ہے۔ اس کا مقصد نئی ٹیکنالوجیز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
واشنگٹن: امریکی محکمہ توانائی (DOE) اور سمال بزنس ایڈمنسٹریشن (SBA) نے مشترکہ طور پر ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد 'ایس بی آئی سی-ای' (SBIC-E) نامی ایک نئے اقدام کا آغاز کرنا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی ہدف امریکہ میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدت لانے والے چھوٹے کاروباروں اور سٹارٹ اپس کے لیے نجی سرمایہ کاری کے دروازے کھولنا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق یہ شراکت داری ملکی معیشت میں نئی روح پھونکنے اور توانائی کے شعبے میں جدید ایجادات کی حوصلہ افزائی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔
اس نئے پروگرام کے تحت سرمایہ کاروں کو توانائی کی جدید ٹیکنالوجیز، خاص طور پر کلین انرجی اور پائیدار حل پر کام کرنے والے چھوٹے کاروباروں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے مراعات اور تعاون فراہم کیا جائے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ نجی شعبے کی جانب سے سرمایہ کاری کی فراہمی سے ان چھوٹے اداروں کو وہ مالی معاونت ملے گی جو انہیں لیب سے مارکیٹ تک پہنچنے میں درکار ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور امریکہ عالمی سطح پر تکنیکی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکے گا۔
محکمہ توانائی اور ایس بی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طویل مدتی اقتصادی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد سرکاری وسائل اور نجی سرمائے کا موثر استعمال کرنا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے سرمایہ کاری کے عمل کو نہ صرف تیز کیا جائے گا بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے درپیش مالی رکاوٹوں کو بھی دور کیا جائے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے توانائی کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی اور امریکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اہداف کے حصول میں بھی بہتر کارکردگی دکھا سکے گا۔
آنے والے مہینوں میں اس پروگرام کے تحت کئی نئے پروجیکٹس کو فنڈنگ کی فراہمی شروع کر دی جائے گی، جس کے لیے باقاعدہ جانچ پڑتال اور معیار کا تعین کیا جائے گا۔ دونوں اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے ملک میں کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنائیں گے تاکہ جدت پسند تاجروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بہترین پلیٹ فارم میسر آ سکے۔ یہ اقدام نہ صرف کاروباری دنیا بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے ایک نئی امید کی کرن ثابت ہوگا۔