LIVE
Loading Breaking News...

سوزن کولنز اور جے ڈی وینس کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریاں

News Image
امریکی ریاست مین کی سینیٹر سوزن کولنز نے نائب صدر جے ڈی وینس کے انتخابی دوروں کے دوران ان کے ساتھ سٹیج شیئر کرنے سے گریز کیا ہے۔ سیاسی مبصرین اسے ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات اور کولنز کی اپنی انفرادی حکمت عملی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
امریکی سیاست میں ایک غیر معمولی صورتحال اس وقت دیکھنے میں آئی جب ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز نے نائب صدر جے ڈی وینس کے دورہ مین (Maine) کے دوران ان کے ساتھ سٹیج شیئر کرنے سے مکمل طور پر گریز کیا۔ جے ڈی وینس نے ریاست مین میں سینیٹر کولنز کی انتخابی مہم کے حق میں حمایت کے لیے دو مرتبہ دورے کیے، تاہم ہر بار سینیٹر کولنز کی عدم موجودگی نے سیاسی تجزیہ کاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ان کے درمیان تعلقات میں کوئی دراڑ پیدا ہو گئی ہے۔ سینیٹر سوزن کولنز، جو اپنی اعتدال پسند شناخت کے لیے جانی جاتی ہیں، نے ان دوروں میں شرکت نہ کر کے مبینہ طور پر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنی انتخابی حکمت عملی میں آزاد رہنا چاہتی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ کولنز کی جانب سے اس دوری کا مقصد ڈیموکریٹک حریف ٹرائے جیکسن کے مقابلے میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔ ریاست مین میں ووٹرز کی ایک بڑی تعداد کا جھکاؤ اعتدال پسند سیاست کی جانب ہے، اور ایسے میں پارٹی کی مرکزی قیادت یا متنازعہ سمجھے جانے والے رہنماؤں کے ساتھ نظر آنا کولنز کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جے ڈی وینس کے دورے کے دوران ان کا غائب رہنا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی چال معلوم ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ خود کو پارٹی کے انتہائی دائیں بازو کے خیالات سے الگ تھلگ ظاہر کر رہی ہیں۔ دوسری جانب، ریپبلکن پارٹی کی صفوں میں اس رویے پر تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ پارٹی کارکنوں کا خیال ہے کہ اتحاد کے بغیر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر جب حریف پارٹی اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہو۔ سینیٹر کولنز کی جانب سے یہ خاموشی یا عدم شرکت، ریپبلکن پارٹی کے اندرونی اختلافات کو بھی ظاہر کرتی ہے جہاں قدامت پسند اور اعتدال پسند دھڑے اکثر ایک دوسرے کے مدمقابل نظر آتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ سیاسی دوری کس حد تک ان کی انتخابی مہم کو متاثر کرتی ہے اور کیا پارٹی قیادت اس صورتحال پر کوئی ردعمل دیتی ہے یا نہیں۔