Technology
ٹرمپ کی مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر حمایت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریڈیو انٹرویو کے دوران مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے وسیع تر منصوبوں کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان منصوبوں کے ماحولیاتی اور دیگر اثرات پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ریڈیو انٹرویو کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے درکار ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے منصوبوں کی کھل کر حمایت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا قیام ناگزیر ہے اور وہ ایسی پیش رفت کو قومی معیشت کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔ یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں نشر ہوا ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر ہونے والی ماحولیاتی اور توانائی کی کھپت کے خدشات پر شدید بحث کی جا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ گفتگو سابق وکیل مائیکل کوہن کے ساتھ ہوئی، جنہوں نے ماضی میں ان کے خلاف گواہی دی تھی، تاہم ٹرمپ نے ان اختلافات کو پس پشت ڈال کر ٹیکنالوجی پالیسی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے حوالے سے بڑھتی ہوئی مخالفت کے باوجود ٹرمپ کا یہ موقف ان کے حامیوں اور ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے ایک بڑا پیغام سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو چلانے کے لیے زبردست کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کو نرم کر کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر کو تیز کیا جانا چاہیے یا نہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ موقف ان کی 'امریکہ فرسٹ' پالیسی کا ہی ایک حصہ ہے، جس کا مقصد ٹیکنالوجی کے میدان میں چین اور دیگر حریفوں پر برتری حاصل کرنا ہے۔ دوسری جانب، ماحولیاتی کارکنوں کا ماننا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی کی بے تحاشا ضرورت گرڈ پر بوجھ بڑھانے کے ساتھ ساتھ کاربن کے اخراج میں بھی اضافے کا باعث بنتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ٹرمپ کی حمایت ان منصوبوں کی راہ میں حائل قانونی اور ماحولیاتی رکاوٹوں کو دور کرنے میں کتنی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ مستقبل کی امریکی توانائی کی پالیسی کے تعین میں بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔