LIVE
Loading Breaking News...

امریکا: لائسنس پلیٹ کیمروں کے ذریعے نگرانی پر ریپبلکن پارٹی تقسیم

News Image
امریکا میں ایک کمپنی کے تیار کردہ لائسنس پلیٹ ریڈنگ کیمروں کی تنصیب نے ریپبلکن پارٹی کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین اور سابق سی آئی اے حکام اسے عوامی آزادیوں کے لیے خطرہ اور بگ برادر جیسی نگرانی قرار دے رہے ہیں۔
امریکا میں لائسنس پلیٹ ریڈنگ کیمروں کے وسیع نیٹ ورک نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ریپبلکن پارٹی کے اندر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ یہ کیمرے ایک نجی کمپنی کی جانب سے پورے ملک میں نصب کیے گئے ہیں، جس کے بعد سے شہریوں کی نقل و حرکت کی نگرانی پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی 'بگ برادر' کی طرز پر نگرانی کا ایک ایسا نظام ہے جو ہر امریکی شہری کی روزمرہ زندگی کو ریکارڈ کر رہا ہے، جس سے بنیادی انسانی حقوق اور پرائیویسی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس معاملے پر ریپبلکن پارٹی دو حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ پارٹی کے ایک دھڑے کا ماننا ہے کہ عوامی تحفظ اور جرائم کی روک تھام کے لیے یہ کیمرے ناگزیر ہیں اور پولیس کو ان کے ذریعے مجرموں کو پکڑنے میں مدد ملتی ہے۔ دوسری جانب پارٹی کے قدامت پسند اور آزادی کے علمبردار رہنماؤں نے اس ٹیکنالوجی کو آئینی حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ بغیر کسی عدالتی وارنٹ کے لاکھوں بے گناہ شہریوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنا حکومتی تجاوز کے زمرے میں آتا ہے جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ دریں اثنا، سابق سی آئی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس معاملے پر سنگین انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کا وسیع پیمانے پر نگرانی کا نظام نہ صرف نجی زندگی کو ختم کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں سیاسی دباؤ اور کنٹرول کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو قانون کے دائرہ کار میں محدود نہ کیا گیا تو یہ ریاست کے لیے ایک ایسا ہتھیار ثابت ہو گی جو شہریوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائے گا۔ اب بحث اس بات پر مرکوز ہو گئی ہے کہ آیا نجی کمپنیوں کو اس قدر وسیع پیمانے پر نگرانی کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی امریکا میں سیکیورٹی اور آزادی کے مابین توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے قانون سازی کے مطالبات میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے تاکہ عوامی پرائیویسی کو یقینی بنایا جا سکے۔